حدیث نمبر: 9055
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ تَلَقَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَجِلَ إِعْظَامًا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَقَالَ لَهُ : " يَا حَبِيبِي أَنْتَ أَشْبَهُ النَّاسِ بِخُلُقِي وَخَلْقِي وَخُلِقْتَ مِنَ الطِّينَةِ الَّتِي خُلِقْتُ مِنْهَا ، يَا حَبِيبِي حَدِّثَنِي عَنْ بَعْضٍ عَجَائِبِ أَهْلِ الْحَبَشَةِ " . قَالَ : نَعَمْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَيْنَا أَنَا قَائِمٌ فِي بَعْضِ طُرُقِهَا إِذَا أَنَا بِعَجُوزٍ عَلَى رَأْسِهَا مِكْتَلٍ وَأَقْبَلَ شَابٌّ يَرْكُضُ عَلَى فَرَسٍ فَزَحَمَهَا وَأَلْقَى الْمِكْتَلَ عَنْ رَأْسِهَا ، وَاسْتَوَتْ قَائِمَةً وَأَتْبَعَتْهُ الْبَصَرَ وَهِيَ تَقُولُ : الْوَيْلُ لَكَ غَدًا إِذَا جَلَسَ الْمَلِكُ عَلَى كُرْسِيِّهِ فَاقْتَصَّ لِلْمَظْلُومِ مِنَ الظَّالِمِ . ¤ قَالَ جَابِرٌ : فَنَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ : " لَا قَدَسَّ اللَّهُ أُمَّةً لَا تَأْخُذُ لِلْمَظْلُومِ حَقَّهُ مِنَ الظَّالِمِ غَيْرُ مُتَعْتَعٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَكِّيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّعَيْنِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین سے واپس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے کے لئے آئے ، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام میں ان کا چہرہ سرخ ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا : اے میرے محبوب شخص ! میرے اخلاق اور میری ظاہری شخصیت کے حوالے سے تم مجھ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہو تمہیں بھی اسی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس سے مجھے پیدا کیا گیا اے میرے محبوب فرد تم اہل حبشہ کی کوئی حیران کن بات مجھے بتاؤ تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! ایک مرتبہ میں ایک راستے پر کھڑا ہوا تھا اسی دوران ایک بوڑھی عورت گزری جس کے سر پر ایک برتن تھا پھر ایک نوجوان آیا اس نے اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگائی وہ اس عورت کے پاس سے گزرا تو عورت کے سر سے اس کا برتن گر گیا وہ عورت سیدھی کھڑی ہوئی اور اس نے اپنی نگاہ اس گھڑ سوار کے پیچھے کی اور یہ کہا: کل تمہارا ستیاناس ہو گا ، جب بادشاہ اپنی کرسی پر بیٹھے گا ، اور ظالم سے مظلوم کو بدلہ دلوائے گا ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاکیزہ نہیں کرتا جس میں مظلوم شخص ظالم سے اپنا حق کسی پریشانی کے بغیر نہیں لے سکتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مکی بن عبداللہ رعینی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9055
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف