حدیث نمبر: 9056
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَرَادَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنْ يَبْنِيَ دَارًا فَقَالَتْ قُرَيْشٌ : أَلَا نَمْنَعَ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ أَنْ يَبْنِيَ دَارًا فِينَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَآمِرٌ بِذَلِكَ وَأَنَا ظَالِمٌ " أَوْ " فَأَنَا ظَالِمٌ لَا يُقَدِّسُ اللَّهُ أُمَّةً لَا يُؤْخَذُ لِضَعِيفِهَا مِنْ شَدِيدِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ نَفْسِهِ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ فِي الْأَحْكَامِ وَأَحَادِيثُ غَيْرِهِ مِنْ نَحْوِ هَذَا الْبَابِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے گھر بنانے کا ارادہ کیا ، تو قریش نے کہا: ہم ابن ام عبد کو اس بات سے روک نہ دیں کہ وہ ہمارے درمیان گھر بنائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں اس بارے میں حکم دوں گا ؟ تو پھر تو میں ظالم ہوؤں گا اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاکیزہ نہیں کرتا جس میں طاقتور سے کمزور کے لئے ( حق کو ) وصول نہیں کیا جاتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، اور وہ متروک ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے جو اسی واقعہ کے بارے میں ہے وہ کتاب الاحکام میں گزری ہے اس کے علاوہ اس نوعیت کی دیگر احادیث اس باب میں مذکور ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9056
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف