حدیث نمبر: 9054
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعْفَرًا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حِينَ قَدِمَ مِنَ الْحَبَشَةِ : " مَا أَعْجَبُ شَيْءٍ رَأَيْتَهُ ؟ " قَالَ : رَأَيْتُ امْرَأَةً تَحْمِلُ عَلَى رَأْسِهَا مِكْتَلًا مِنْ طَعَامٍ ، فَمَرَّ فَارِسٌ فَرَكَضَهُ فَأَبْدَرَهُ ، فَجَلَسَتْ تَجْمَعُ طَعَامَهَا ثُمَّ الْتَفَتَتْ فَقَالَتْ : وَيْلٌ لَكَ إِذَا وَضَعَ الْمَلِكُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - كُرْسِيَّهُ فَأَخَذَ لِلْمَظْلُومِ مِنَ الظَّالِمِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَصْدِيقًا لِقَوْلِهَا : " لَا قُدِّسَتْ أُمَّةٌ - أَوْ كَيْفَ تُقَدَّسُ أُمَّةٌ - لَا يَأْخُذُ ضَعِيفُهَا حَقَّهُ مِنْ شَدِيدِهَا وَهُوَ غَيْرُ مُتَعْتَعٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَهُوَ ثِقَةٌ لَكِنَّهُ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ حبشہ سے واپس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم نے حیران کن چیز کیا دیکھی ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ اس نے اپنے سر پر اناج کا پیمانہ ( یا برتن ) رکھا ہوا تھا ایک گھڑ سوار وہاں سے گزرا اس نے اس کو ایڑھ لگائی اور اس عورت کا برتن گرا دیا وہ عورت بیٹھ کر اپنا اناج اکٹھا کرنے لگی پھر اس نے مڑ کر دیکھا اور بولی: تمہارا ستیاناس ہو ! جب بادشاہ ( اللہ تعالیٰ ) اپنی کرسی رکھے گا ، اور پھر ظالم سے مظلوم کو انصاف دلائے گا ( پھر دیکھنا تمہارا کیا حال ہو گا ) راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے اس قول کی تصدیق کے لئے یہ بات ارشاد فرمائی : ” وہ امت پاکیزہ نہیں ہو گی ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ امت کیسے پاکیزہ ہو سکتی ہے جس میں کمزور شخص طاقتور سے اپنا حق کسی پریشانی کے بغیر نہیں لے سکتا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9055
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ تَلَقَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَجِلَ إِعْظَامًا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَقَالَ لَهُ : " يَا حَبِيبِي أَنْتَ أَشْبَهُ النَّاسِ بِخُلُقِي وَخَلْقِي وَخُلِقْتَ مِنَ الطِّينَةِ الَّتِي خُلِقْتُ مِنْهَا ، يَا حَبِيبِي حَدِّثَنِي عَنْ بَعْضٍ عَجَائِبِ أَهْلِ الْحَبَشَةِ " . قَالَ : نَعَمْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَيْنَا أَنَا قَائِمٌ فِي بَعْضِ طُرُقِهَا إِذَا أَنَا بِعَجُوزٍ عَلَى رَأْسِهَا مِكْتَلٍ وَأَقْبَلَ شَابٌّ يَرْكُضُ عَلَى فَرَسٍ فَزَحَمَهَا وَأَلْقَى الْمِكْتَلَ عَنْ رَأْسِهَا ، وَاسْتَوَتْ قَائِمَةً وَأَتْبَعَتْهُ الْبَصَرَ وَهِيَ تَقُولُ : الْوَيْلُ لَكَ غَدًا إِذَا جَلَسَ الْمَلِكُ عَلَى كُرْسِيِّهِ فَاقْتَصَّ لِلْمَظْلُومِ مِنَ الظَّالِمِ . ¤ قَالَ جَابِرٌ : فَنَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ : " لَا قَدَسَّ اللَّهُ أُمَّةً لَا تَأْخُذُ لِلْمَظْلُومِ حَقَّهُ مِنَ الظَّالِمِ غَيْرُ مُتَعْتَعٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَكِّيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّعَيْنِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین سے واپس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے کے لئے آئے ، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام میں ان کا چہرہ سرخ ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا : اے میرے محبوب شخص ! میرے اخلاق اور میری ظاہری شخصیت کے حوالے سے تم مجھ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہو تمہیں بھی اسی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس سے مجھے پیدا کیا گیا اے میرے محبوب فرد تم اہل حبشہ کی کوئی حیران کن بات مجھے بتاؤ تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! ایک مرتبہ میں ایک راستے پر کھڑا ہوا تھا اسی دوران ایک بوڑھی عورت گزری جس کے سر پر ایک برتن تھا پھر ایک نوجوان آیا اس نے اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگائی وہ اس عورت کے پاس سے گزرا تو عورت کے سر سے اس کا برتن گر گیا وہ عورت سیدھی کھڑی ہوئی اور اس نے اپنی نگاہ اس گھڑ سوار کے پیچھے کی اور یہ کہا: کل تمہارا ستیاناس ہو گا ، جب بادشاہ اپنی کرسی پر بیٹھے گا ، اور ظالم سے مظلوم کو بدلہ دلوائے گا ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاکیزہ نہیں کرتا جس میں مظلوم شخص ظالم سے اپنا حق کسی پریشانی کے بغیر نہیں لے سکتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مکی بن عبداللہ رعینی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مکی بن عبداللہ رعینی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9056
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَرَادَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنْ يَبْنِيَ دَارًا فَقَالَتْ قُرَيْشٌ : أَلَا نَمْنَعَ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ أَنْ يَبْنِيَ دَارًا فِينَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَآمِرٌ بِذَلِكَ وَأَنَا ظَالِمٌ " أَوْ " فَأَنَا ظَالِمٌ لَا يُقَدِّسُ اللَّهُ أُمَّةً لَا يُؤْخَذُ لِضَعِيفِهَا مِنْ شَدِيدِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ نَفْسِهِ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ فِي الْأَحْكَامِ وَأَحَادِيثُ غَيْرِهِ مِنْ نَحْوِ هَذَا الْبَابِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے گھر بنانے کا ارادہ کیا ، تو قریش نے کہا: ہم ابن ام عبد کو اس بات سے روک نہ دیں کہ وہ ہمارے درمیان گھر بنائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں اس بارے میں حکم دوں گا ؟ تو پھر تو میں ظالم ہوؤں گا اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاکیزہ نہیں کرتا جس میں طاقتور سے کمزور کے لئے ( حق کو ) وصول نہیں کیا جاتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، اور وہ متروک ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے جو اسی واقعہ کے بارے میں ہے وہ کتاب الاحکام میں گزری ہے اس کے علاوہ اس نوعیت کی دیگر احادیث اس باب میں مذکور ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، اور وہ متروک ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے جو اسی واقعہ کے بارے میں ہے وہ کتاب الاحکام میں گزری ہے اس کے علاوہ اس نوعیت کی دیگر احادیث اس باب میں مذکور ہیں ۔
حدیث نمبر: 9057
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يُقَدِّسُ اللَّهُ أُمَّةً لَا يُقْضَى فِيهَا بِالْحَقِّ وَيَأْخُذُ الضَّعِيفُ حَقَّهُ مِنَ الْقَوِيِّ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاکیزگی عطا نہیں کرتا جس میں حق ادا نہیں کی جاتا اور کمزو شخص کسی پریشانی کے بغیر کسی طاقتور سے اپنا حق نہیں لے سکتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9058
وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ أَنْ سَلْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِي : هَلْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا قُدِّسَتْ أُمَّةٌ لَا يَأْخُذُ ضَعِيفُهَا حَقَّهُ مِنْ قَوِيِّهَا وَهُوَ غَيْرُ مُضْطَهَدٍ " . فَإِنْ قَالَ : نَعَمْ فَاحْمِلْهُ عَلَى الْبَرِيدِ . فَسَأَلَهُ فَقَالَ : نَعَمْ . فَحَمَلَهُ عَلَى الْبَرِيدِ مِنْ مِصْرَ إِلَى الشَّامِ فَسَأَلَهُ مُعَاوِيَةُ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ وَلَكِنْ أَحْبَبْتُ أَنْ أَتَثَبَّتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ربیعہ بن یزید بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مسلمہ بن مخلد کو خط لکھا کہ تم سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے سوال کرو : کیا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایسی امت کو پاکیزگی عطا نہیں کی جاتی ہے جس کا کمزور فرد اس کے طاقتور فرد سے اپنا حق ، پریشانی کے بغیر نہیں لے سکتا “ ۔ اگر وہ جواب دیں جی ہاں ، تو تم اس کو لکھ کر ڈاک کے ذریعے بھجوا دینا مسلمہ بن مخلد نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، تو مسلمہ بن مخلد نے یہ تحریر کر کے ڈاک کے ذریعے مصر سے شام بھجوایا جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا تھا ، اور جو انہوں نے بتایا تھا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ، لیکن میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں اس بارے میں مزید تحقیق کر لوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔