حدیث نمبر: 9032
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ جَاءَ عَلِيٌّ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ : إِنَّكَ مَحْبُوبٌ فِي النَّاسِ ، فَسِرْ إِلَى الشَّامِ . فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : بِقَرَابَتِي وَصُحْبَتِي لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالرَّحِمِ الَّتِي بَيْنَنَا ، فَلَمْ يُعَاوِدْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

نافع بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے ، اور بولے : لوگوں میں تم پسندیدہ شخصیت کے مالک ہو تم شام کی طرف جاؤ ( اور لوگوں کو میری اطاعت کی ترغیب دو ) تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی قرابت اور اپنے صحابی ہونے اور ہمارے درمیان موجود رشتے داری کا واسطہ ہے کہ میں ایسا نہیں کروں گا ) تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دوبارہ انہیں نہیں کہا: ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9032
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13047)»