حدیث نمبر: 9031
وَعَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعْتُهُ فَبَلَغَنِي : أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُرْسِلَ جَيْشًا إِلَى قَوْمِي فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ رُدَّ الْجَيْشَ وَأَنَا لَكَ بِإِسْلَامِهِمْ وَطَاعَتِهِمْ . قَالَ : " افْعَلْ " . فَكَتَبْتُ إِلَى قَوْمِي فَأَتَى وَفْدٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِسْلَامِهِمْ وَطَاعَتِهِمْ . فَقَالَ : " يَا أَخَا صُدَاءٍ إِنَّكَ لَمُطَاعٌ فِي قَوْمِكَ ؟ " . قُلْتُ : بَلْ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأَحْسَنَ إِلَيْهِمْ . قَالَ : " أَفَلَا أُؤَمِّرُكَ عَلَيْهِمْ ؟ " قُلْتُ : بَلَى . فَأَمَّرَنِي عَلَيْهِمْ فَكَتَبَ لِي بِذَلِكَ كِتَابًا ، وَسَأَلْتُهُ مِنْ صَدَقَاتِهِمْ فَفَعَلَ ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ [ فَنَزَلَ مَنْزِلًا ] ، فَأَعْرَسْنَا مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ فَلَزِمْتُهُ وَجَعَلَ أَصْحَابِي يَتَقَطَّعُونَ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ رَجُلٌ غَيْرِي ، فَلَمَّا تَحَيَّنَ الصُّبْحُ أَمَرَنِي فَأَذَّنْتُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَخَا صُدَاءٍ أَمَعَكَ مَاءٌ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ قَلِيلٌ لَا يَكْفِيكَ . قَالَ : " صُبَّهُ فِي الْإِنَاءِ ثُمَّ ائْتِنِي بِهِ " [ فَأَتَيْتُهُ ] فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَرَأَيْتُ بَيْنَ كُلِّ إِصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ عَيْنًا تَفُورُ ، قَالَ : " يَا أَخَا صُدَاءٍ لَوْلَا أَنِّي أَسْتَحْيِي مِنْ رَبِّيَ لَسَقَيْنَا وَاسْتَسْقَيْنَا ، نَادِ فِي النَّاسِ مَنْ يُرِيدُ الْوُضُوءَ ؟ " قَالَ : فَاغْتَرَفَ مَنِ اغْتَرَفَ وَجَاءَ بِلَالٌ لِيُقِيمَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ أَذَّنَ وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ " فَلَمَّا صَلَّى الْفَجْرَ أَتَاهُ أَهْلُ الْمَنْزِلِ يَشْكُونَ عَامِلَهُمْ وَيَقُولُونَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَنَا بِمَا كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَالْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ [ وَأَنَا فِيهِمْ ] وَقَالَ : " لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ " فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِي وَأَتَاهُ سَائِلٌ يَسْأَلُهُ فَقَالَ : " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى فَهُوَ صُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ وَدَاءٌ فِي الْبَطْنِ " فَقَالَ : أَعْطِنِي مِنَ الصَّدَقَاتِ . فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَرْضَ فِي الصَّدَقَاتِ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلَا غَيْرِهِ حَتَّى جَعَلَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْهُمْ أَعْطَيْتُكَ حَقَّكَ " فَلَمَّا أَصْبَحْتُ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْ إِمَارَتَكَ فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهَا . قَالَ : " وَلِمَ ؟ " قُلْتُ : سَمِعْتُكَ تَقُولُ : " لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ " وَقَدْ آمَنْتُ وَسَمِعْتُكَ تَقُولُ : " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى فَصُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ وَدَاءٌ فِي الْبَطْنِ " وَقَدْ سَأَلْتُكَ وَأَنَا غَنِيٌّ . قَالَ : " هُوَ ذَاكَ فَإِنْ شِئْتَ فَخُذْ وَإِنْ شِئْتَ فَدَعْ " . قَالَ : قُلْتُ : بَلْ أَدَعُ . قَالَ : " فَدُلَّنِي عَلَى رَجُلٍ أُوَلِّيهِ " . فَدَلَلْتُهُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْوَفْدِ فَوَلَّاهُ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا بِئْرًا إِذَا كَانَ الشِّتَاءُ وَسِعَنَا مَاؤُهَا فَاجْتَمَعْنَا عَلَيْهَا ، وَإِذَا كَانَ الصَّيْفُ قَلَّ مَاؤُهَا فَتَفَرَّقْنَا عَلَى مِيَاهِ مَنْ حَوْلَنَا ، وَإِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ الْيَوْمَ أَنْ نَتَفَرَّقَ كُلُّ مَنْ حَوْلَنَا عَدُوٌّ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسَعَنَا مَاؤُهَا . قَالَ : فَدَعَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَفَرَكَهُنَّ بَيْنَ كَفَّيْهِ وَقَالَ : " إِذَا أَتَيْتُمُوهَا فَأَلْقُوا وَاحِدَةً [ وَاحِدَةً ] وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ " . فَمَا اسْتَطَاعُوا أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى قَعْرِهَا بَعْدُ . ¤ قُلْتُ : فِي السُّنَنِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، وَرَدَّ عَلَى مَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کی بیعت کی ( یعنی آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا ) مجھے یہ اطلاع ملی کہ آپ میری قوم کی طرف کوئی لشکر روانہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ لشکر کو روک لیں میں آپ کو ان کے اسلام اور فرما برداری کی ضمانت دیتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے میں نے اپنی قوم کو خط لکھا ان لوگوں کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام قبول کرنے کے لئے اور فرمانبرداری کرنے کے لئے حاضر ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے صداء قبیلے کے فرد تمہاری قوم میں تمہاری بات مانی جاتی ہے میں نے عرض کی : جی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت نصیب کی ہے ، اور ان کے ساتھ اچھائی کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں ان لوگوں کا امیر مقرر نہ کر دوں ؟ میں نے عرض کی : ٹھیک ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان لوگوں کا امیر مقرر کر دیا اور اس بارے میں آپ نے میرے لئے تحریر لکھوا دی میں نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ مجھے ان کے صدقات وصول کرنے کا نگران بھی بنا دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا بھی کر دیا ایک دن سفر کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ہوا تھا ہم لوگوں نے رات کے ابتدائی حصہ میں پڑاؤ کر لیا تھا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا میرے ساتھی ادھر ادھر چلے گئے تھے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرے علاوہ اور کوئی فرد نہیں رہا جب صبح صادق کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا میں نے اذان دی پھر آپ نے دریافت کیا : اے صداء قبیلے کے فرد ! کیا تمہارے پاس پانی ہے میں نے عرض کی : جی ہاں تھوڑا سا ہے وہ آپ کے لئے کفایت نہیں کرے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کو برتن میں ڈالو اور پھر میرے پاس لے آؤ میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس میں داخل کیا ، تو میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں میں سے ہر دو انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹ پڑا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے صداء ، قبیلے کے فرد اگر مجھے اپنے پروردگار سے حیاء نہ آتی ہوتی ، تو ہم اسے پی بھی لیتے اور پینے کے لئے حاصل بھی کر لیتے تم لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جو شخص وضو کرنا چاہتا ہے ( وہ آ جائے ) راوی کہتے ہیں : ، تو لوگوں نے وہ پانی حاصل کر لیا ( جب نماز کا وقت ہوا ) تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اقامت کہنے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صداء قبیلے کے فرد نے اذان دی تھی اور جو اذان دے وہی اقامت کہتا ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ادا کر لی ، تو اس پڑاؤ کی جگہ کے افراد آپ کے پاس آئے ، اور انہوں نے اپنے متعلقہ اہلکار کی شکایت کی اور یہ عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے ہم سے اپنے اور اپنی قوم کے درمیان موجود زمانہ جاہلیت کی ناراضگی کا بدلہ لیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے جن میں ، میں بھی شامل تھا آپ نے ارشاد فرمایا کسی مومن شخص کے لئے امارت میں بھلائی نہیں ہے راوی کہتے ہیں : یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی پھر ایک شخص آپ سے کچھ مانگنے کے لئے آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص خوشحال ہونے کے باوجود لوگوں سے مانگتا ہے ، تو یہ چیز سر کا درد اور پیٹ کی بیماری ہے اس نے کہا: آپ صدقات میں سے مجھے کچھ دیدیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ، صدقات کے بارے میں کسی نبی کے حکم یا نبی کے علاوہ کسی کے حکم سے راضی نہیں ہوتا اس نے صدقات کے مستحق آٹھ قسم کے افراد بنائے ہیں اگر تم اُن میں سے ایک ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دیدیتا ہوں جب اگلے دن صبح ہوئی ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنا ریاستی عہدہ واپس لے لیں ( جو آپ نے مجھے عطا کیا تھا ) مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ میں نے عرض کی : میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : “ مومن شخص کے لئے امارت میں بھلائی نہیں ہے “ ۔ اور میں ایک مومن شخص ہوں ، اور میں نے آپ کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص خوشحالی کے باوجود لوگوں سے مانگے گا ، تو یہ چیز سر کا درد ہے ، اور پیٹ کی بیماری ہے “ ۔ تو میں نے ، تو اس حال میں یہ مانگا ہے کہ جب میں خوشحال ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ ایسا ہی ہے اگر تم چاہو تو اسے لے لو اور اگر چاہو تو اسے چھوڑ دو راوی بیان کرتے ہیں : میں نے کہا: پھر میں اسے چھوڑتا ہوں راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم مجھے کسی ایسے فرد کے بارے میں بتاؤ جسے میں اس کا نگران مقرر کر دوں میں نے وفد میں سے ایک شخص کے بارے میں آپ کی خدمت میں گزارش کی ، تو آپ نے اسے امیر مقرر کر دیا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا ایک کنواں ہے ، جب سردی کا موسم ہو تو اس کا پانی ہمارے لئے کفایت کر جاتا ہے ہم اس کے اردگرد اکٹھے ہو جاتے ہیں لیکن جب گرمی کا موسم آتا ہے ، تو اس کا پانی تھوڑا ہو جاتا ہے ، اور ہم اپنے ارد گرد مختلف پانیوں کی طرف بکھر جاتے ہیں پہلے ایسا ہوتا تھا ، لیکن اب ہم ایسا نہیں کر سکتے کہ ہم ادھر ادھر بکھر جائیں کیونکہ ہمارے ہر طرف دشمن موجود ہے آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ اس کا پانی ہمارے لئے کفایت کر جائے راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات کنکریاں لیں انہیں اپنی ہتھیلی پر پھیلایا اور پھر ارشاد فرمایا جب تم اس کنویں کے پاس جاؤ تو اللہ کا نام لے کر ایک ایک کنکری اس میں ڈالتے جانا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس کے بعد ان لوگوں کو بھی اس کنویں کی نچلی تہہ نظر نہیں آئی ( یعنی اس کے بعد وہ ہمیشہ پانی سے بھرا رہتا تھا ) ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سنن میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے ، اور وہ ضعیف ہے أحمد بن صالح نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس شخص کے قول کو مسترد کیا ہے جس نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9031
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5285) اخرجه احمد فى المسند (169/4)»