مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ كَرَاهَةِ الْوِلَايَةِ وَلِمَنْ تُسْتَحَبُّ . باب: حکمرانی کا ناپسندیدہ ہونا اور یہ کس کے لئے مستحب ہے ؟
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ أَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَسَأَلْتُهُ : كَيْفَ أَصْبَحْتَ ؟ فَاسْتَوَى جَالِسًا فَقَالَ : أَصْبَحْتُ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا . فَقَالَ : أَمَا إِنِّي عَلَى مَا تَرَى وَجِعٌ ، وَجَعَلْتُمْ لِيَ شُغْلًا مَعَ وَجَعِي ، جَعَلْتُ لَكُمْ عَهْدًا مِنْ بَعْدِي ، وَاخْتَرْتُ لَكُمْ خَيْرَكُمْ فِي نَفْسِي ، فَكُلُّكُمْ وَرِمٌ لِذَلِكَ أَنْفُهُ ، رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ الْأَمْرُ لَهُ ، وَرَأَيْتُ الدُّنْيَا أَقْبَلَتْ وَلَمَّا تُقْبِلُ وَهِيَ جَائِيَةٌ ، وَسَتَجِدُونَ بُيُوتَكُمْ بِسُتُورِ الْحَرِيرِ وَنَضَائِدِ الدِّيبَاجِ ، وَتَأْلَمُونَ ضَجَائِعَ الصُّوفِ الْأَذْرَبِيِّ كَأَنَّ أَحَدَكُمْ عَلَى حَسَكِ السَّعْدَانِ ، وَاللَّهِ لَأَنْ يُقَدَّمَ أَحَدُكُمْ فَيُضْرَبَ عُنُقُهُ فِي غَيْرِ حَدٍّ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسِيحَ فِي غَمْرَةِ الدُّنْيَا . ¤ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا إِنِّي لَا آسَى عَلَى شَيْءٍ إِلَّا عَلَى ثَلَاثٍ فَعَلْتُهُنَّ وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْهُنَّ ، وَثَلَاثٌ لَمْ أَفْعَلْهُنَّ وَدِدْتُ أَنِّي فَعْلَتُهُنَّ وَثَلَاثٌ وَدِدْتُ أَنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُنَّ . ¤ فَأَمَّا الثَّلَاثُ الَّتِي وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْهُنَّ : فَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ كَشَفْتُ بَيْتَ فَاطِمَةَ وَتَرَكْتُهُ ، وَأَنْ أُغْلِقَ عَلَى الْحَرْبِ ، وَوَدِدْتُ أَنِّي يَوْمَ سَقِيفَةَ بَنِي سَاعِدَةَ قَذَفْتُ الْأَمْرَ فِي عُنُقِ أَحَدِ الرَّجُلَيْنِ أَبِي عُبَيْدَةَ أَوْ عُمَرَ وَكَانَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَكُنْتُ وَزِيرًا ، وَوَدِدْتُ أَنِّي حِينَ وَجَّهْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أَهْلِ الرِّدَّةِ أَقَمْتُ بِذِي الْقَصَّةِ ، فَإِنْ ظَفِرَ الْمُسْلِمُونَ ظَفِرُوا ، وَإِلَّا كُنْتُ رِدْءًا وَمَدَدًا . ¤ وَأَمَّا الثَّلَاثُ اللَّاتِي وَدِدْتُ أَنِّي فَعَلْتُهَا : فَوَدِدْتُ أَنِّي يَوْمَ أَتَيْتُ بِالْأَشْعَثِ أَسِيرًا ضَرَبْتُ عُنُقَهُ ، فَإِنَّهُ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ لَا يَكُونُ شَرٌّ إِلَّا طَارَ إِلَيْهِ ، وَوَدِدْتُ أَنِّي يَوْمَ أَتَيْتُ بِالْفُجَاةِ السُّلَمِيِّ لَمْ أَكُنْ أَحْرَقْتُهُ وَقَتَلْتُهُ سَرِيحًا أَوْ أَطْلَقْتُهُ نَجِيحًا ، وَوَدِدْتُ أَنِّي حِينَ وَجَّهْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى الشَّامِ وَجَّهْتُ عُمَرَ إِلَى الْعِرَاقِ فَأَكُونُ قَدْ بَسَطْتُ يَمِينِي وَشِمَالِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ . ¤ وَأَمَّا الثَّلَاثُ اللَّاتِي وَدِدْتُ أَنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُنَّ : فَوَدِدْتُ أَنِّي سَأَلْتُهُ فَيْمَنْ هَذَا الْأَمْرُ ؟ فَلَا يُنَازِعُهُ أَهْلَهُ ، وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ سَأَلْتُهُ : هَلْ لِلْأَنْصَارِ فِي هَذَا الْأَمْرِ سَبَبٌ ؟ وَوَدِدْتُ أَنِّي سَأَلْتُهُ عَنِ الْعَمَّةِ وَبِنْتِ الْأَخِ فَإِنَّ فِي نَفْسِي مِنْهُمَا حَاجَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُلْوَانُ بْنُ دَاوُدَ الْبَجَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَهَذَا الْأَثَرُ مِمَّا أُنْكِرَ عَلَيْهِ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اس بیماری کے دوران ، ان کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس آیا جس بیماری کے دوران کا انتقال ہو گیا تھا میں نے انہیں سلام کیا ان سے دریافت کیا : آپ کا کیا حال ہے ، تو وہ سیدھے ہو کے بیٹھ گئے انہوں نے کہا: الحمدللہ اب میں بہتر ہوں انہوں نے فرمایا : مجھے جو تکلیف ہے وہ تم دیکھ رہے ہو اور اس تکلیف کے باوجود تم لوگوں نے مجھے ایک مصروفیت دی ہے میں نے تم لوگوں کے لئے اپنے بعد ایک عہد طے کیا ہے ، اور تمہارے لئے ایک ایسے شخص کو منتخب کیا ہے جو میرے نزدیک تم میں سب سے بہتر ہے حالانکہ تم میں سے ہر ایک شخص حکومت میں دلچپسی رکھتا ہے ، یہ امید رکھتے ہوئے کہ حکومت اس کو مل جائے میں نے دنیا کو دیکھا کہ وہ آ رہی ہے ، اور جب وہ آ رہی ہے تو سمجھ لو آ چکی ہے ، عنقریب تم اپنے گھروں کو ریشم کے پردوں اور دیباج کے کپڑوں کے ذریعے آراستہ کر لو گے اور اذربی اون کے بچھونوں سے تمہیں یوں الجھن ہو گی جس طرح کسی کو سعد ان کے کانوں پر رکھ دیا گیا ہے اللہ کی قسم ! تم میں سے کسی ایک شخص کو آگے کر کے کسی جرم کے بغیر اس کی گردن اڑا دی جائے یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ دنیا میں ڈوب جائے پھر انہوں نے فرمایا : مجھے کسی بھی چیز پر اتنا افسوس نہیں ہے جتنا تین چیزوں پر ہے جو میں نے کی تھیں میری یہ خواہش ہے کہ میں نے وہ نہ کی ہوتیں ، اور تین ایسی چیزوں پر افسوس ہے کہ میں نے وہ نہیں کی ہیں ، میری یہ خواہش تھی کہ میں نے وہ کر لی ہوتیں اور تین ایسی چیزوں پر افسوس ہے کہ جن کے بارے میں میری یہ خواہش ہے کہ میں نے ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر لیا ہوتا جہاں تک ان تین چیزوں کا تعلق ہے جن کے بارے میں میری یہ خواہش ہے کہ میں نے وہ نہ کی ہوتیں ، تو میری یہ خواہش ہے کہ میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پردے کو نہ ہٹایا ہوتا اور اسے چھوڑ دیا ہوتا اور یہ کہ میں نے لڑائی کو بند کر دیا ہوتا اور میری یہ خواہش ہے کہ بنو سقیفہ بنو ساعدہ کے دن میں نے حکومت کا معاملہ ابوعبیدہ یا عمر ، ان دونوں میں سے کسی ایک کی گردن میں ڈال دیا ہوتا وہ امیرالمؤمنین ہوتا اور میں وزیر ہوتا اور میری یہ خواہش ہے کہ جب میں نے خالد بن ولید کو مرتدین کی طرف بھیجا تھا تو میں خود زوالقصہ میں ٹھہر جاتا اگر مسلمان کامیاب ہو جاتے ، تو ہو جاتے ورنہ میں ان کو کمک پہنچانے اور مدد کرنے کے لئے موجود ہوتا ۔ جہاں تک ان تین چیزوں کا تعلق ہے کہ جن کی میری یہ خواہش ہے کہ میں نے وہ کر لی ہوتیں تو میری یہ خواہش ہے کہ جس دن میرے پاس اشعث کو قیدی بنا کر لایا گیا تھا اس دن میں نے اس کی گردن اڑا دی ہوتی کیونکہ مجھے یہ خیال آیا تھا کہ جو بھی خرابی ہو گی وہ اس کی طرف جائے گا ، اور میری یہ خواہش تھی کہ جس دن فجاة سلمی کو میرے پاس لایا گیا تھا میں نے اسے جلا دیا نہ ہوتا بلکہ آرام سے قتل کر دیا ہوتا یا اسے چھوڑ دیتا اور میری یہ خواہش تھی کہ جب میں نے خالد بن ولید کو شام کی طرف بھیجا تھا تو عمر کو عراق کی طرف بھیج دیتا تو یوں میں اپنے دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں کو اللہ کی راہ میں پھیلا دیتا ۔ جہاں تک ان تین چیزوں کا تعلق ہے جن کے بارے میں میری یہ خواہش ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے بارے میں دریافت کر لیا ہوتا تو میری یہ خواہش ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دریافت کر لیا ہوتا کہ حکومت کس کو ملے گی ؟ تاکہ کوئی شخص اس کے اہل شخص سے تنازع نہ کرتا اور میری یہ خواہش ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر لیا ہوتا کیا حکومت میں انصار کا بھی کوئی حصہ ہو گا ، اور میری یہ خواہش ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھوپھی اور بھتیجی ( کی وراثت ) کے بارے میں دریافت کیا ہوتا کیونکہ ان دونوں کے حوالے سے میرے ذہن میں ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علوان بن داؤد بجلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور یہ اصل ان روایات میں سے ہے جنہیں منکر قرار دیا گیا ہے ۔