حدیث نمبر: 9029
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الطَّائِيِّ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ فَبَعَثَ مَعَهُ مَعَ ذَلِكَ الْجَيْشِ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَسَرَاةَ أَصْحَابِهِ ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى نَزَلُوا جَبَلِي طَيِّءٍ فَقَالَ عَمْرٌو : انْظُرُوا إِلَى رَجُلٍ دَلِيلٍ بِالطَّرِيقِ ، فَقَالُوا : مَا نَعْلَمُهُ إِلَّا رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ رَبِيلًا ، فَسَأَلْتُ طَارِقًا : مَا الرَّبِيلُ ؟ قَالَ : اللِّصُّ الَّذِي يَغْزُو الْقَوْمَ وَحْدَهُ فَيَسْرِقُ . ¤ قَالَ رَافِعٌ : فَلَمَّا قَضَيْنَا غَزَاتَنَا وَانْتَهَيْتُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي كُنَّا خَرَجْنَا مِنْهُ تَوَسَّمْتُ أَبَا بَكْرٍ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : يَا صَاحِبَ الْحَلَالِ إِنِّي تَوَسَّمْتُكَ مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِكَ فَائْتِنِي بِشَيْءٍ إِذَا حَفِظْتُهُ كُنْتُ مِنْكُمْ وَمِثْلَكُمْ . فَقَالَ : أَتَحْفَظُ أَصَابِعَكَ الْخَمْسَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : اشْهَدْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ إِنْ كَانَ لَكَ مَالٌ ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، حَفِظْتَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : وَأُخْرَى : لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ . قُلْتُ : وَهَلْ تَكُونُ الْإِمْرَةُ إِلَّا فِيكُمْ أَهْلِ بَدْرٍ ؟ قَالَ : يُوشِكُ أَنْ تَفْشُوا حَتَّى تَبْلُغَكَ وَمَنْ هُوَ دُونَكَ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمَّا بَعَثَ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ النَّاسُ فِي الْإِسْلَامِ ، فَمِنْهُمْ مَنْ دَخَلَ فَهَدَاهُ اللَّهُ ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَكْرَهَهُ السَّيْفُ ، فَهُمْ عُوَّادُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَجِيرَانُ اللَّهِ فِي خِفَارَةِ اللَّهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا كَانَ أَمِيرًا فَتَظَالَمَ النَّاسُ بَيْنَهُمْ فَلَمْ يَأْخُذْ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ انْتَقَمَ اللَّهُ مِنْهُ ، إِنِ الرَّجُلَ مِنْكُمْ لَتُؤْخَذُ شَاةُ جَارِهِ فَيَظَلُّ نَاتِئَ عَضَلَتِهِ غَضَبًا لِجَارِهِ وَاللَّهُ مِنْ وَرَاءِ جَارِهِ قَالَ رَافِعٌ : فَمَكَثْتُ سَنَةً ، ثُمَّ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتُخْلِفَ فَرَكَنْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ : أَنَا رَافِعٌ كَنْتُ لَقِيتُكَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا قَالَ : عَرَفْتُ قَالَ : كُنْتَ نَهَيْتَنِي عَنِ الْإِمَارَةِ ثُمَّ رَكَبْتَ أَعْظَمَ مِنْ ذَلِكَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : نَعَمْ فَمَنْ لَمْ يُقِمْ فِيهِمْ كِتَابَ اللَّهِ فَعَلَيْهِ بَهْلَةُ اللَّهِ - يَعْنِي لَعْنَةَ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا رافع بن عمرو طائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو ذات سلال کے لشکر کا امیر مقرر کر کے بھیجا آپ نے اس لشکر کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جلیل القدر صحابہ کرام کو بھی بھیجا یہ لوگ روانہ ہوئے یہاں تک کہ انہوں نے طے کے دو پہاڑوں کے درمیان پڑاؤ کیا ، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ ایسے شخص کو ڈھونڈ لو جو راستے کے بارے میں رہنمائی کرے ، تو لوگوں نے کہا: ہمارے علم کے مطابق صرف رافع بن عمرو یہ کام کر سکتا ہے ، کیونکہ وہ ربیل ہے ( روایت کے ایک راوی کہتے ہیں : ) میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا : ربیل سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : چور ، جو اکیلا لوگوں کے پاس جا کر چوری کر لیتا ہے ۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم نے اپنی جنگی مہم مکمل کر لی اور میں اس مقام پر پہنچا جہاں سے میں نکلا تھا تو میں نے وہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پایا میں ان کے پاس آیا میں نے کہا: جناب میں نے آپ کے ساتھیوں میں سے آپ کو پایا ہے کہ آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں کہ جب میں اسے یاد کر لوں ، تو میں آپ میں سے ہو جاؤں اور آپ کی مانند ہو جاؤں انہوں نے فرمایا : کیا تم پانچ انگلیوں کے اوپر ( پانچ چیزیں ) یاد رکھ سکتے ہو ؟ میں نے کہا: جی ہاں انہوں نے فرمایا : پھر تم یہ گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور تم نماز ادا کرو اور تم زکوۃ ادا کرو اور اگر تمہارے پاس مال موجود ہو تو تم بیت اللہ کا حج کرو اور رمضان کے روزے رکھو ، کیا تم یاد رکھو گے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : ایک اور بات بھی ہے کہ تم کبھی بھی دو آدمیوں پر امیر نہ بننا میں نے کہا: کیا امیر ہونا صرف آپ لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو اہل بدر ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : ہو سکتا ہے کہ یہ آگے چل کے پھیل جائے یہاں تک کہ یہ تم تک بھی پہنچ جائے بلکہ تم سے نیچے کے افراد تک بھی پہنچ جائے اللہ تعالیٰ نے جب اپنے نبی کو مبعوث کیا ، تو لوگ اسلام میں داخل ہو گئے ان میں سے کچھ ایسے افراد تھے کہ جو اسلام میں داخل ہوئے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت دی تھی ان میں سے کچھ ایسے افراد تھے جنہیں تلوار نے مجبور کیا تھا ، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کے مہمان اور اللہ تعالیٰ کے پڑوسی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہیں جب کوئی شخص امیر بنے اور لوگوں پر ظلم کرے اور ان میں سے ایک سے دوسرے کا حق نہ وصول کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص سے انتقام لے گا تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے پڑوسی کی بکری کی وجہ سے گرفت میں آ جائے گا کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ ناراضگی کی وجہ سے اس پر قبضہ رکھے گا حالانکہ اس کے پڑوسی سے پرے ، اللہ تعالیٰ بھی ہے ۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک سال گزر گیا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کر دیا گیا میں ان کے پاس آیا میں نے کہا: میں رافع ہوں میری آپ سے فلاں فلاں جگہ پر ملاقات ہوئی تھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے پہچان لیا ہے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ، تو مجھے امیر بننے سے منع کرتے تھے اور آپ اس سے بڑے امیر بن گئے ہیں ۔ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری امت کے امیر بن گئے ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! جو شخص ان میں اللہ کی کتاب ( کے احکام ) کو برقرار نہیں رکھے گا اس پر اللہ تعالیٰ کی ” بہلت ہو گی راوی کہتے ہیں : یعنی اللہ کی لعنت ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9029
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4467)»