حدیث نمبر: 9025
وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَبْعَثًا فَلَمَّا رَجَعْتُ قَالَ لِي : " كَيْفَ تَجِدُ نَفْسَكَ ؟ " قُلْتُ : مَا زِلْتُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ مَعِي خَوَلًا لِي وَايْمُ اللَّهِ لَا أَتَأَمَّرُ عَلَى رَجُلَيْنِ بَعْدَهَا أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عُمَيْرَ بْنَ إِسْحَاقَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک جگہ بھیجا جب میں واپس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : تم نے اپنے آپ کو کیسا پایا ؟ میں نے عرض کی : میں مسلسل یہی گمان کرتا رہا کہ میرے ساتھ میرے غلام ہیں ( جو میری فرمانبرداری کر رہے ہیں ) اللہ کی قسم ! اب میں اس کے بعد کبھی بھی دو آدمیوں کا امیر بھی نہیں بنوں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمیر بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اور عبداللہ بن أحمد نامی ایک راوی ہے جو ثقہ اور مامون ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9025
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (258/20)»