مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ كَرَاهَةِ الْوِلَايَةِ وَلِمَنْ تُسْتَحَبُّ . باب: حکمرانی کا ناپسندیدہ ہونا اور یہ کس کے لئے مستحب ہے ؟
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رَجُلٍ - قَالَ الْحَضْرَمِيُّ : فِي كِتَابِ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ رَجُلٍ - قَالَ : اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ فَلَمَّا مَضَى وَرَجَعَ إِلَيْهِ قَالَ لَهُ : " كَيْفَ وَجَدْتَ الْإِمَارَةَ ؟ " قَالَ : كُنْتُ كَبَعْضِ الْقَوْمِ إِذَا رَكَنْتُ رَكَنُوا وَإِذَا نَزَلْتُ نَزَلُوا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ [ صَاحِبَ ] السُّلْطَانِ عَلَى بَابِ عَتَبٍ إِلَّا مَنْ عَصَمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ فَقَالَ الرَّجُلُ : وَاللَّهِ لَا أَعْمَلُ لَكَ وَلَا لِغَيْرِكَ أَبَدًا . فَضَحِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤مالک بن حارث نے ایک شخص کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ حضرمی کہتے ہیں : ابوکریب کی تحریر میں یہ بات ہے کہ حمید کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک جنگی مہم کا عامل مقرر کیا وہ شخص چلا گیا اور پھر جب وہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تم نے امارت کو کیسا پایا ؟ اس نے عرض کی : میں ، تو لوگوں کی طرح ایک عام فرد تھا جب میں مائل ہوتا تھا تو وہ بھی مائل ہو جاتے تھے جب میں پڑاؤ کرتا تھا تو وہ بھی پڑاؤ کر لیتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ریاستی عہدہ رکھنے والا شخص عتاب کے دروازے پر ہوتا ہے البتہ جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے اس کا معاملہ مختلف ہے ۔ اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! اب میں نہ ، تو آپ کے لئے ، اور نہ آپ کے علاوہ کسی اور کے لئے ، کبھی کسی کے لئے کوئی ذمہ داری سر انجام نہیں دوں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔