حدیث نمبر: 9024
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَعْمَلَ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيَّ عَلَى جَرِيدَةَ خَيْلٍ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ : " كَيْفَ رَأَيْتَ ؟ " قَالَ : رَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ وَيَصْنَعُونَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي لَيْسَ ذَلِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُوَ ذَاكَ " . فَقَالَ الْمِقْدَادُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَعْمَلُ عَلَى عَمَلٍ أَبَدًا . فَكَانُوا يَقُولُونَ لَهُ : تَقَدَّمْ فَصَلِّ بِنَا فَيَأْبَى . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو حَمْزَةَ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ مَعِينٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مقداد بن اسود کندی رضی اللہ عنہ ” جریدہ خیل “ کا عامل مقرر کیا جب وہ آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے کیسا پایا ؟ تو انہوں نے عرض کی : میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ بلند کرتے تھے اور وہ کام کرتے تھے یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ میں ایسا نہیں ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسا ہی ہے ، سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اب میں کبھی کوئی ریاستی ذمہ داری سرانجام نہیں دوں گا راوی کہتے ہیں : لوگ ان سے یہ کہا: کرتے تھے : آپ آگے بڑھ کے ہمیں نماز پڑھا دیں ، تو وہ یہ بات بھی نہیں مانتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوار بن داؤد ابوحمزہ ہے ، جسے امام أحمد ابن حبان اور یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9024
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1644)»