حدیث نمبر: 9018
وَعَنْ رَافِعٍ الطَّائِيِّ رَفِيقِ أَبِي بَكْرٍ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ : وَسَأَلْتُهُ عَمَّا قِيلَ مِنْ بَيْعَتِهِمْ ؟ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُهُ عَمَّا تَكَلَّمَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ ، وَمَا كَلَّمَهُمْ ، وَمَا كَلَّمَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْأَنْصَارَ ، وَمَا ذَكَّرَهُمْ بِهِ مِنْ إِمَامَتِي إِيَّاهُمْ بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ : فَبَايَعُونِي لِذَلِكَ وَقَبِلْتُهَا مِنْهُمْ وَتَخَوَّفْتُ أَنْ تَكُونَ فِتْنَةً تَكُونُ بَعْدَهَا رِدَّةٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ عَيَّاشٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

رافع طائی ، جو غزوہ ذات السلاسل میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : کہ ان لوگوں کی بیعت کے بارے میں جو کچھ کہا: گیا ہے ، تو انہوں نے یہ بتانا شروع کیا کہ انصار کا کیا موقف تھا ، اور انہوں نے ان لوگوں کے ساتھ کیا بات چیت کی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس حوالے سے انصار سے کیا بات چیت کی اور کس طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو میری امامت کے بارے میں ترغیب دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران جو حکم دیا تھا ( کہ میں امامت کروں ) تو انصار نے اس حوالے سے میری بیعت کر لی اور میں نے اس بیعت کو ان کے حوالے سے قبول کر لیا کیونکہ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں کوئی فتنہ نہ آ جائے جس کے بعد مرتد ہونا ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے اپنے استاد علی بن عیاش کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9018
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (42)»