حدیث نمبر: 9017
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ ، وَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ ، وَيْلٌ لِلْأُمَنَاءِ ، لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ ذَوَائِبَهُمْ كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا ، يَتَذَبْذَبُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَمْ يَكُونُوا عَمِلُوا عَلَى شَيْءٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ فِي طَرِيقَيْنِ مِنْ أَرْبَعَةٍ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : امراء کے لئے بربادی ہے عرفاء کے لئے بربادی ہے امناء کے لئے بربادی ہے ( یعنی سرکاری اہلکاروں کے لئے بربادی ہے ) قیامت کے دن کچھ لوگ یہ آرزو کریں گے کہ ان کے بالوں کے ذریعے انہیں ثریا ستارے کے ساتھ لٹکا دیا جاتا وہ آسمان اور زمین کے درمیان جھول رہے ہوتے لیکن انہوں نے کوئی ریاستی ذمہ داری سرانجام نہ دی ہوتی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور چار میں سے دو طریق کے ان کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9017
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1643) اخرجه ابو يعلى فى المسند (6217) احمد فى المسند (352/2)»