مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ كَرَاهَةِ الْوِلَايَةِ وَلِمَنْ تُسْتَحَبُّ . باب: حکمرانی کا ناپسندیدہ ہونا اور یہ کس کے لئے مستحب ہے ؟
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ : اقْضِ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ : لَا أَقْضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ ، وَلَا أَؤُمُّ رَجُلَيْنِ ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَقَدْ عَاذَ بِمُعَاذٍ ؟ " قَالَ : بَلَى . قَالَ : فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تَسْتَعْمِلَنِي ، فَأَعْفَاهُ قَالَ : وَلَا تُخْبِرَنَّ أَحَدًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَيَزِيدُ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤یزید بن موہب بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں ( یعنی قاضی کے فرائض سر انجام دیں ) انہوں نے فرمایا : میں ، تو دو آدمیوں کے درمیان بھی فیصلہ نہیں دوں گا ، اور میں ، تو دو آدمیوں کی بھی امامت ( یا حکمرانی ) نہیں کروں گا کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے ” جو شخص اللہ کی پناہ مانگتا ہے وہ زبردست پناہ لیتا ہے “ ۔ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ آپ مجھے سرکاری اہلکار مقرر کریں ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں چھوڑ دیا اور کہا: تم اس بارے میں کسی کو نہ بتانا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ یزید نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔