مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ كَرَاهَةِ الْوِلَايَةِ وَلِمَنْ تُسْتَحَبُّ . باب: حکمرانی کا ناپسندیدہ ہونا اور یہ کس کے لئے مستحب ہے ؟
حدیث نمبر: 9016
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ ، وَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ ، وَيْلٌ لِلْأُمَنَاءِ ، لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِهِمْ يَوْمٌ وَدَّ أَنَّهُ مُعَلَّقٌ بِالنَّجْمِ ، وَأَنَّهُ لَمْ يَلِ عَمَلًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ النَّصْرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ مُدَلِّسٌ . ¤محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” امراء کے لئے بربادی ہے عرفاء کے لئے بربادی ہے ، اور امناء کے لئے بربادی ہے ( یعنی سرکاری اہلکاروں کے لئے بربادی ہے ) ان لوگوں پر ایک ایسا دن آئے گا کہ جب وہ شخص یہ آرزو کرے گا کہ اسے ستارے کے ساتھ لٹکا دیا جاتا لیکن وہ کسی ریاستی عہدے کا ذمہ دار نہ بنا ہوتا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن سعید نسری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور ایک راوی لیث بن ابوسلیم مدلس ہے ۔