مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ كَرَاهَةِ الْوِلَايَةِ وَلِمَنْ تُسْتَحَبُّ . باب: حکمرانی کا ناپسندیدہ ہونا اور یہ کس کے لئے مستحب ہے ؟
وَعَنْ حِبَّانَ بْنِ بُحٍّ الصُّدَائِيِّ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ قَوْمِي كَفَرُوا فَأُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَهَّزَ إِلَيْهِمْ جَيْشًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : إِنَّ قَوْمِي عَلَى الْإِسْلَامِ . قَالَ : " أَكَذَاكَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : فَاتَّبَعْتُهُ لَيْلَتِي إِلَى الصَّبَاحِ ، فَأَذَّنْتُ بِالصَّلَاةِ لَمَّا أَصْبَحْتُ ، وَأَعْطَانِي إِنَاءً أَتَوَضَّأُ مِنْهُ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصَابِعَهُ فِي الْإِنَاءِ فَانْفَجَرَ عُيُونًا فَقَالَ : " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَلْيَتَوَضَّأْ " . فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ وَأَمَّرَنِي عَلَيْهِمْ وَأَعْطَانِي صَدَقَتَهُمْ ، فَقَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : فُلَانٌ ظَلَمَنِي . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِمُسْلِمٍ " ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ صَدَقَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الصَّدَقَةَ صُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ وَحَرِيقٌ فِي الْبَطْنِ - أَوْ دَاءٌ - " . فَأَعْطَيْتُهُ صَحِيفَتِي أَوْ صَحِيفَةَ إِمْرَتِي وَصَدَقَتِي فَقَالَ : " مَا شَأْنُكَ ؟ " فَقُلْتُ : كَيْفَ أَقْبَلُهَا وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْكَ مَا سَمِعْتُ ؟ ! قَالَ : " هُوَ مَا سَمِعْتَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا حبان بن بح صدائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری قوم کے لوگ کافر تھے مجھے یہ بات بتائی گئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف لشکر روانہ کرنے لگے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : میری قوم اسلام پر عمل پیرا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا ایسا ہی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں راوی کہتے ہیں : میں رات بھر صبح ہونے تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا پھر میں نے نماز کے لئے اذان دی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک برتن دیا تاکہ میں اس سے وضو کر لوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں اس برتن میں ڈالیں ، تو ان انگلیوں سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص وضو کرنا چاہتا ہو وہ وضو کر لے میں نے وضو کیا میں نے نماز ادا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میری قوم کا امیر مقرر کیا اور مجھے ان کے صدقات وصول کرنے کا نگران مقرر کیا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : فلاں شخص نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کے لئے امیر ہونے میں بھلائی نہیں ہے پھر ایک اور ایک شخص آپ کے پاس آیا اس نے آپ سے صدقہ مانگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صدقہ ، تو سر کا درد ہوتا ہے ، اور پیٹ میں آگ کا باعث ہوتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) بیماری کا باعث ہوتا ہے راوی کہتے ہیں : تو میں نے صحیفہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اپنے امیر ہونے اپنے صدقات وصول کرنے کا نگران ہونے کا صحیفہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی : میں نے آپ کی زبانی یہ بات سن لی ہے ، تو اب میں اسے کیسے قبول کر سکتا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ویسا ہی ہے جس طرح تم نے سنا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔