مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ كَرَاهَةِ الْوِلَايَةِ وَلِمَنْ تُسْتَحَبُّ . باب: حکمرانی کا ناپسندیدہ ہونا اور یہ کس کے لئے مستحب ہے ؟
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : جَاءَ حَمْزَةُ بْنُ عَبَدَ الْمُطَّلِبِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْنِي عَلَى شَيْءٍ أَعِيشُ بِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا حَمْزَةُ نَفْسٌ تُحْيِيهَا أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ نَفْسٌ تُمِيتُهَا ؟ " قَالَ : [ بَلْ ] نَفْسٌ أُحْيِيهَا . قَالَ : " عَلَيْكَ بِنَفْسِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ، اور عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی کام کا نگران مقرر کر دیں تاکہ اس کے ذریعے میں زندگی گزار سکوں ( یعنی روزی کما سکوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے حمزہ کسی جان کو زندگی دینا آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے یا اسے موت دینا آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ۔ بلکہ کسی جان کو زندگی دینا محبوب ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر آپ پر اپنے آپ کا خیال رکھنا لازم ہے ( یا اپنے آپ کو زندگی دینا لازم ہے ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔