حدیث نمبر: 9013
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ : سَلَّمَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَهْلُ الشَّامِ فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْأَمِيرُ . فَقَالُوا : مَنْ هَذَا الْمُنَافِقُ الَّذِي قَصَّرَ فِي كُنْيَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ لِمُعَاوِيَةَ : إِنَّ هَؤُلَاءِ قَدْ عَابُوا عَلِيَّ شَيْئًا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ أَمَا إِنِّي قَدْ حَيَّيْتُ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : إِنِّي لَأَخَالَهُ قَدْ كَانَ بَعْضَ الَّذِي تَقُولُ ، وَلَكِنَّ أَهْلَ الشَّامِ حِينَ وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ قَالُوا : وَاللَّهِ لَنَعْرِفَنَّ دِينَنَا وَلَا نُقَصِّرُ تَحِيَّةَ خَلِيفَتِنَا ، وَإِنِّي لَأَخَالَكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ تَقُولُونَ لِعَامِلِ الصَّدَقَةِ أَمِيرٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَالزُّهْرِيُّ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاوِيَةَ وَلَكِنَّ رِجَالَهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَفِي مَنَاقِبِ عُمَرَ : أَوَّلُ مَنْ سُمِّيَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ . ¤
محمد محی الدین

زہری بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو سلام کیا اس وقت ان کے پاس اہل شام موجود تھے ۔ سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر آپ کو سلام ہو ! اہل شام نے کہا: یہ منافق شخص کون ہے ؟ جس نے امیرالمؤمنین کے لفظ کو مختصر کر دیا ہے سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ لوگ مجھ پر ایک ایسی چیز کے حوالے سے اعتراض کر رہے ہیں جس کے بارے میں آپ زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ میں نے ان کلمات کے ذریعے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی سلام کیا ہے ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ ایسا ہوا تھا جس طرح تم بیان کر رہے ہو لیکن جب اختلافات پیدا ہو گئے ، تو اہل شام یہ کہتے ہیں : کہ اللہ کی قسم ! ہم اپنے دین کے بارے میں بخوبی جانتے ہیں اور ہم اپنے خلیفہ کو مخاطب کرتے ہوئے الفاظ میں کی نہیں کریں گے اے اہل مدینہ ! تم لوگوں کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ تم لوگ زکوۃ وصول کرنے والے اہلکار کو بھی امیر کہتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ زہری نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے تاہم اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مناقب میں یہ بات شامل ہے کہ وہ پہلے فرد ہیں جنہیں ” امیر المؤمنین“ کا خطاب دیا گیا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9013
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8309)»