مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ الْخِلَافَةِ فِي قُرَيْشٍ وَالنَّاسُ تَبَعٌ لَهُمْ . باب: خلافت کا قریش میں ہونا اور لوگوں ، ان کے پیروکار ہونا
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا فِي بَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يُوَسِّعُ رَجَاءَ أَنْ يَجْلِسَ إِلَى جَنْبِهِ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْبَابِ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيْهِ فَقَالَ : " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَلِي عَلَيْكُمْ حَقٌّ عَظِيمٌ ، وَلَهُمْ ذَلِكَ مَا فَعَلُوا ثَلَاثًا : إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا ، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا ، وَإِذَا عَاهَدُوا وَفَّوْا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " وَإِذَا ائْتَمَنُوا أَدُّوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : رُبَّمَا خَالَفَ وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم ایک ایسے گھر میں موجود تھے جس میں مہاجرین اور انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد موجود تھے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے ہم میں سے ہر ایک شخص نے جگہ بنانی شروع کی یہ امید رکھتے ہوئے کہ شاید آپ اس کے پہلو میں تشریف فرما ہو جائیں لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دروازے کے پاس کھڑے ہوئے آپ نے اس کے کواڑوں کو پکڑا اور فرمایا حکمران قریش میں سے ہوں گے میرا تم پر بڑا حق ہے ، اور ان لوگوں کا بھی حق ہو گا ، جب تک وہ تین کام کریں گے ، جب ان سے رحم مانگا جائے ، تو رحم کریں جب وہ فیصلہ دیں ، تو عدل سے کام لیں گے ، جب عہد کریں ، تو اس کو پورا کریں گے ان میں سے جو فرد ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب انہیں امین بنایا جائے ، تو وہ ادائیگی کریں ( یعنی امانت واپس کر دیں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن فروخ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ بعض اوقات ( دوسروں کے ) برخلاف روایت نقل کرتا ہے اس راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے معجم کبیر کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔