حدیث نمبر: 8989
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَانُ أَهْلِ الْأَرْضِ مِنَ الْغَرَقِ الْقَوْسُ ، وَأَمَانُ أَهْلِ الْأَرْضِ مِنَ الِاخْتِلَافِ الْمُوَالَاةُ لِقُرَيْشٍ ، قُرَيْشُ أَهْلُ اللَّهِ ، فَإِذَا خَالَفَتْهَا قَبِيلَةٌ مِنَ الْعَرَبِ صَارُوا حِزْبَ إِبْلِيسَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَأَمَانُ أُمَّتِي مِنَ الِاخْتِلَافِ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : وَقَالَ : " قُرَيْشٌ أَهْلُ اللَّهِ " . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ¤ وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل زمین کے ڈوبنے سے امان ، قوس ( شاید مراد قوس قزح کا نمودار ہونا ) ہے ، اور اختلاف کے حوالے سے اہل زمین کی امان قریش کے ساتھ محبت ہے قریش اللہ والے ہیں عربوں کا کوئی قبیلہ جب ان کی مخالفت کرے گا ، تو وہ ابلیس کے گروہ میں ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اختلاف کے حوالے سے میری امت کی امان “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے فرمایا : ” قریش اللہ والے ہیں “ ۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی خلید بن دعلج ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8989
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (747) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11479)»