مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ الْخِلَافَةِ فِي قُرَيْشٍ وَالنَّاسُ تَبَعٌ لَهُمْ . باب: خلافت کا قریش میں ہونا اور لوگوں ، ان کے پیروکار ہونا
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ فَقَالَ : " هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا قُرَشِيٌّ ؟ " فَقَالُوا : [ لَا ] إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا . فَقَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ مَا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا ، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا ، وَإِذَا أَقْسَمُوا أَقْسَطُوا ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھر کے پاس آ کر کھڑے ہوئے جس میں قریش کے کچھ افراد موجود تھے آپ نے دروازے کے کواڑوں کو پکڑ لیا اور دریافت کیا : گھر میں صرف قریشی ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! ہمارا ایک بھانجا بھی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قوم کا بھانجا ان کا ایک فرد ہوتا ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا یہ معاملہ ( یعنی حکومت ) قریش میں رہے گا ، جب تک ان سے رحم مانگا جائے ، تو وہ رحم کریں گے اور جب تک وہ فیصلہ دیتے ہوئے عدل سے کام لیں گے اور تقسیم کرتے ہوئے انصاف سے کام لیں گے ان میں سے جو فرد ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔