حدیث نمبر: 8986
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مِلْحَةَ الْمُزَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ قَاعِدًا مَعَهُمْ فَدَخَلَ بَيْتَهُ فَقَالَ : " ادْخُلُوا عَلَيَّ وَلَا يَدْخُلُ عَلَيَّ إِلَّا قُرَشِيٌّ " فَتَسَالَّلْتُ فَدَخَلْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ هَلْ مَعَكُمْ أَحَدٌ لَيْسَ مِنْكُمْ ؟ " قَالُوا : نُخْبِرُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِآبَائِنَا أَنْتَ وَأُمَّهَاتِنَا مَعَنَا ابْنُ الْأُخْتِ وَالْمَوْلَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَلِيفُ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ، وَابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ، يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنَّكُمُ الْوُلَاةُ بَعْدِي لِهَذَا الْأَمْرِ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ، ( وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ) ( وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ( وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ ) يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي وَأَبْنَائِهِمْ وَأَبْنَاءِ أَبْنَائِهِمْ رَحِمَ اللَّهُ الْأَنْصَارَ وَأَبْنَاءَ الْأَنْصَارِ وَأَبْنَاءَ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ حَسَّنَ لَهُ التِّرْمِذِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن عوف بن یزید بن ملحہ مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے ساتھ تشریف فرما تھے آپ گھر کے اندر تشریف لے گئے آپ نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اندر آ جاؤ لیکن صرف قریشی اندر آئیں راوی کہتے ہیں : میں وہاں سے اٹھا اور اندر آ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے قریش کے افراد ! کیا تمہارے ساتھ کوئی ایسا فرد ہے جو تم میں سے نہ ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ہم آپ کو بتاتے ہیں ہمارے ساتھ ہمارا ایک بھانجا ہے ، اور ایک غلام ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قوم کا حلیف ان میں سے ایک ہوتا ہے ، اور قوم کا بھانجا ان میں سے ایک ہوتا ہے اے قریش کے گروہ ! تم لوگ میرے بعد اس معاملے کے نگران بنو گے ، تو تم مرتے وقت مسلمان ہی رہنا اور تم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کے رکھنا اور فرقوں میں تقسیم نہ ہونا اور تم ان لوگوں کی مانند نہ ہو جانا جو فرقوں میں تقسیم ہو گئے ، اور انہوں نے اختلاف کیا اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح نشانیاں آ گئی تھیں اور ان لوگوں کو صرف اسی بات کا حکم دیا گیا کہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرتے ہوئے ، اور صحیح راستے پر قائم رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں وہ نماز قائم کریں زکوۃ ادا کریں یہی مضبوط دین ہے اے قریش کے گروہ ! میرے اصحاب ان کے بیٹوں ان کے بیٹوں کے بیٹوں کے بارے میں میرا دھیان رکھنا اللہ تعالیٰ انصار پر انصار کے بیٹوں پر انصار کے بیٹوں کے بیٹوں پر رحمت فرمائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ بن عمرو مزنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8986
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12/17)»