حدیث نمبر: 8982
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِقُرَيْشٍ : " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِيكُمْ وَأَنْتُمْ وُلَاتُهُ ، حَتَّى تُحْدِثُوا أَعْمَالًا ، فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ شِرَارَ خَلْقِهِ ، فَالْتَحُوكُمْ كَمَا يُلْتَحَى الْقَضِيبُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے فرمایا : ” یہ معاملہ ( یعنی حکومت ) تمہارے درمیان ہو گی اور تم اس کے نگران ہو گے یہاں تک کہ تم نئے ( منفی ) کام کرو گے ، جب تم ایسا کرو گے ، تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے بدترین لوگ تم پر مسلط کر دے گا ، اور وہ لوگ تمہیں یوں چھیل دیں گے جس طرح چھڑی کو چھیلا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف قاسم بن عبدالرحمن بن حارث کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8982
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (262/17) اخرجه احمد فى المسند (118/4)»