مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ الْخِلَافَةِ فِي قُرَيْشٍ وَالنَّاسُ تَبَعٌ لَهُمْ . باب: خلافت کا قریش میں ہونا اور لوگوں ، ان کے پیروکار ہونا
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَابِ الْبَيْتِ لِبَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ وَأَخَذَ بِعَضَادَتَيِ الْبَابِ فَقَالَ : " هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا قُرَشِيٌّ ؟ " قَالَ : فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ غَيْرُ فُلَانِ ابْنِ أُخْتِنَا فَقَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ مَا [ دَامُوا ] إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا ، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا وَإِذَا قَسَّمُوا أَقْسَطُوا ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے اس گھر میں قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد موجو تھے راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کے کواڑوں کو پکڑا اور ارشاد فرمایا : کیا گھر میں صرف قریشی افراد موجود ہیں ؟ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ہمارا ایک بھانجا ہے جو قریشی نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قوم کا بھانجا ان کا ایک فرد ہوتا ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” یہ معاملہ ( یعنی حکومت ) قریش میں رہے گی جب تک وہ اس حال میں رہیں گے ، کہ جب ان سے رحم مانگا جائے ، تو وہ رحم کریں جب فیصلہ دیں ، تو عدل سے کام لیں جب تقسیم کریں ، تو انصاف سے کام لیں ان میں سے جو فرد ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی اس شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی “ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” قوم کا بھانجا ان کا ایک فرد ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔