مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ الْخِلَافَةِ فِي قُرَيْشٍ وَالنَّاسُ تَبَعٌ لَهُمْ . باب: خلافت کا قریش میں ہونا اور لوگوں ، ان کے پیروکار ہونا
وَعَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ وَإِنَّ فِي أُذُنِي لَقُرْطَيْنِ وَأَنَا غُلَامٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ " ثَلَاثًا " مَا فَعَلُوا ثَلَاثًا : مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا ، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا ، وَعَاهَدُوا فَوَفَوْا ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى أَتَمُّ مِنْهُ وَفِيهِ قِصَّةٌ ، وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا سُكَيْنَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ثِقَةٌ .سیار بن سلامہ ابومنہال بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میرے کان میں دو بالیاں تھیں میں لڑکا تھا انہوں نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ” حکمران قریش میں سے ہوں گے “ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی : ( اور پھر فرمایا : ) ” جب تک وہ لوگ تین کام کریں گے فیصلہ کرتے ہوئے عدل سے کام لیں گے ، جب ان سے رحم مانگا جائے ، تو رحم کریں گے اور جب عہد کریں گے ، تو اس کو پورا کریں گے ان میں سے جو شخص ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اسے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے جس میں پورا واقعہ مذکور ہے امام بزار نے بھی اسے نقل کیا ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سکین بن عبدالعزیز کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔