مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ الْخِلَافَةِ فِي قُرَيْشٍ وَالنَّاسُ تَبَعٌ لَهُمْ . باب: خلافت کا قریش میں ہونا اور لوگوں ، ان کے پیروکار ہونا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : بَيَّنَّا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرِيبًا مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ لَيْسَ فِيهِمْ إِلَّا قُرَشِيٌّ ، لَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ صَفِيحَةَ وُجُوهٍ [ رِجَالٍ قَطُّ ] أَحْسَنَ مِنْ وُجُوهِهِمْ يَوْمَئِذٍ ، فَذَكَرُوا النِّسَاءَ فَتَحَدَّثُوا فِيهِنَّ حَتَّى أَحْبَبْتُ أَنْ يَسْكُتَ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ فَإِنَّكُمْ وُلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ مَا لَمْ تَعْصُوا اللَّهَ ، فَإِذَا عَصَيْتُمُوهُ بَعَثَ عَلَيْكُمْ مَنْ يَلْحَاكُمْ كَمَا يُلْحَى [ هَذَا ] الْقَضِيبُ " . لِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ لَحَا قَضِيبَهُ فَإِذَا هُوَ أَبْيَضُيَصْلُدُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ہم تقریباً اسی افراد تھے جن کا تعلق قریش سے تھا ان میں موجود ہر فرد قریشی تھا اللہ کی قسم ! میں نے اس دن ان لوگوں کے چہروں سے زیادہ خوبصورت چہرے کبھی نہیں دیکھے ان لوگوں نے خواتین کا ذکر کرتے ہوئے ان کے بارے میں بات چیت شروع کی یہاں تک کہ میں نے یہ خواہش کی کہ وہ خاموش ہو جائیں سیدنا عبداللہ کہتے ہیں : پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر ارشاد فرمایا : ” اما بعد ! اے قریش کے گروہ ! تم لوگ اس معاملے کے نگران بنو گے ، جب تک تم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے جب تم اس کی نافرمانی کرو گے ، تو وہ تم پر ایسے لوگوں کو بھیج دے گا ، جو تمہیں اس طرح چھیل دیں گے ، جس طرح چھڑی کو چھیلا جاتا ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک میں موجود ایک چھڑی کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی : پھر آپ نے اس چھڑی کو چھیلا تو وہ ملائم اور سفید ہو گئی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔