مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ الْخِلَافَةِ فِي قُرَيْشٍ وَالنَّاسُ تَبَعٌ لَهُمْ . باب: خلافت کا قریش میں ہونا اور لوگوں ، ان کے پیروکار ہونا
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ : أَبْرَارُهَا أُمَرَاءُ أَبْرَارِهَا ، وَفُجَّارُهَا أُمَرَاءُ فُجَّارِهَا ، وَلِكُلٍّ حَقٌّ ، فَآتُوا كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ ، وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ [ مُجَدَّعٌ ] فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا مَا لَمْ يُخَيِّرْ أَحَدَكُمْ بَيْنَ إِسْلَامِهِ وَضَرْبِ عُنُقِهِ ، فَإِذَا خَيَّرَ [ بَيْنَ إِسْلَامِهِ وَبَيْنَ ضَرْبِ عُنُقِهِ ] فَلْيَمْدُدْ عُنُقَهُ ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ فَلَا دُنْيَا لَهُ وَلَا آخِرَةَ بَعْدَ ذَهَابِ دِينِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيِّ قَالَ الْحَاكِمُ : حَدَّثَ بِغَيْرِ حَدِيثٍ لَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حکمران قریش میں سے ہوں گے قریش کے نیک لوگ ، لوگوں میں سے نیک لوگوں کے حکمران ہوں گے اور قریش کے برے لوگ لوگوں میں سے برے لوگوں کے حکمران ہوں گے اور ہر فرد کا حق ہوتا ہے ، تو تم ہر حق دار کو اس کا حق دو اگر تم پر ایسے حبشی غلام کو امیر بنا دیا جائے جس کے ناک کان کٹے ہوئے ہوں ، تو تم اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرو ! جب تک وہ تم میں سے کسی ایک شخص کو اس چیز کا اختیار نہیں دیتا کہ وہ یا تو اسلام کو باقی رکھے یا پھر قتل ہو جائے ، جب وہ کسی شخص کو اسلام باقی رکھنے یا قتل ہو جانے کے درمیان اختیار دے ، تو پھر آدمی کو اپنی گردن آگے کر دینی چاہیے اس کی ماں اسے روئے ، جب اس کا دین رخصت ہو گیا تو نہ دنیا اس کے لئے فائدہ مند ہو گی نہ آخرت “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد حفص بن عمر بن صباح رقی سے نقل کی ہے ۔ امام حاکم رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس نے اس کے علاوہ ایک ایسی حدیث نقل کی ہے ۔ جس میں اس کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔