مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ الْخِلَافَةِ فِي قُرَيْشٍ وَالنَّاسُ تَبَعٌ لَهُمْ . باب: خلافت کا قریش میں ہونا اور لوگوں ، ان کے پیروکار ہونا
وَعَنْ بُكَيْرِ بْنِ وَهْبٍ الْجَزِرِيِّ قَالَ : قَالَ لِي أَنَسٌ : أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُهُ كُلَّ أَحَدٍ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ وَنَحْنُ فِيهِ فَقَالَ : " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ إِنَّ لِي عَلَيْكُمْ حَقًّا ، وَإِنَّ لَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا مِثْلَ ذَلِكَ ، مَا إِنِ اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا ، وَإِنْ عَاهَدُوا وَفُّوا ، وَإِنْ حَكَمُوا عَدَلُوا ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ أَتَمَّ مِنْهُمَا وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " الْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤بکیر بن وہب جزری بیان کرتے ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا میں تمہیں ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں جو میں ہر ایک کو بیان نہیں کرتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے ہم لوگ اس گھر کے اندر موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حکمران قریش میں سے ہوں گے میرا تم لوگوں پر حق ہے اور اُن لوگوں کا بھی تم پر اس کی مانند حق ہے ، جب تک ان سے رحم مانگا جائے ، تو وہ رحم کریں گے اور جب وہ عہد کریں ، تو وہ پورا کریں اور جب تک وہ فیصلہ کرتے ہوئے انصاف سے کام لیں گے ان میں سے جو فرد ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ جو ان دونوں سے زیادہ مکمل ہے اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” بادشاہی قریش میں ہو گی“ ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔