حدیث نمبر: 8960
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ ، وَكَانَ بَشِيرُ رَجُلًا يَكُفُّ حَدِيثَهُ ، فَجَاءَ أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ فَقَالَ : يَا بَشِيرُ بْنَ سَعْدٍ أَتَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْأُمَرَاءِ ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا أَحْفَظُ خُطْبَتَهُ فَجَلَسَ أَبُو ثَعْلَبَةَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ [ اللَّهُ ] أَنْ يَرْفَعَهَا ، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًّا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا [ ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً ، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ] ، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُبُوَّةٍ " . ثُمَّ سَكَتَ . ¤ قَالَ حَبِيبٌ : فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَكَانَ يَزِيدُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي صَحَابَتِهِ ، فَكَتَبْتُ إِلَيْهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ أُذَكِّرُهُ إِيَّاهُ فَقُلْتُ : إِنِّي لَأَرْجُوَ أَنْ يَكُونَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ - يَعْنِي عُمَرَ - بَعْدَ الْمُلْكِ الْعَاضِّ وَالْجَبْرِيَّةِ فَأَدْخَلَ كِتَابِي عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَسُّرَ بِهِ وَأَعْجَبَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي تَرْجَمَةِ النُّعْمَانِ ، وَالْبَزَّارُ أَتَمُّ مِنْهُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِبَعْضِهِ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ ایسے شخص تھے جو زیادہ بات نہیں کرتے تھے ۔ سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ آئے ، اور بولے : اے بشیر بن سعد کیا آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمرانوں کے بارے میں حدیث یاد ہے ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یاد ہے پھر سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے ، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ” جب تک اللہ کو منظور ہو گا نبوت تمہارے درمیان رہے گی ( یعنی نبی تمہارے درمیان زندہ رہیں گے ) پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اسے اٹھا لے گا پھر نبوت کی منہاج پر خلافت ہو گی جب تک اللہ کو منظور ہو گا وہ رہے گی پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھانا چاہے گا ، تو اسے اٹھا لے گا پھر مضبوطی والی بادشاہی ہو گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا وہ رہے گی پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھانا چاہے گا ، تو اسے اٹھا لے گا پھر آمریت والی بادشاہی ہو گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا وہ رہے گی پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھانا چاہے گا اسے اٹھا لے گا پھر نبوت کی منہاج پر خلافت آئے گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد وہ خاموش ہو گئے ۔ حبیب نامی راوی کہتے ہیں : جب سیدنا عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بنے اور یزید بن نعمان بن بشیر ان کے ساتھیوں میں شامل ہوئے ، تو میں نے انہیں یہ حدیث لکھ کر دی اور میں نے انہیں یہ بات یاد کروائی میں نے کہا: مجھے یہ امید ہے کہ اس سے مراد امیرالمؤمنین یعنی سیدنا عمر بن عبدالعزیز ہی ہوں گے کیونکہ وہ مضبوطی والی اور آمریت والی بادشاہی کے بعد آئے ہیں انہوں نے میرا مکتوب سیدنا عمر بن عبدالعزیز کے سامنے پڑھ کر سنایا تو وہ اس پر خوش ہوئے ، اور انہیں یہ اچھا لگا ۔
یہ روایت امام أحمد نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے منقول روایات کے ضمن میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اسے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8960
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1588) اخرجه احمد فى المسند (273/4)»