مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ كَيْفَ بَدَأَتِ الْإِمَامَةُ وَمَا تَصِيرُ إِلَيْهِ وَالْخِلَافَةُ وَالْمُلْكُ . باب: امامت کا آغاز کیسے ہو گا ، اور پھر یہ کس طرف جائے گی ، خلافت اور ملوکیت کا بیان
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ : كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ يَتَنَاجَيَانِ بَيْنَهُمَا بِحَدِيثٍ فَقُلْتُ لَهُمَا : مَا حَفِظْتُمَا وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ أَوْصَاهُمَا بِي . فَقَالَا : مَا أَرَدْنَا أَنْ نَنْتَجِيَ بِشَيْءٍ دُونَكَ إِنَّا ذَكَرْنَا حَدِيثًا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَا يَتَذَاكَرَانِهِ وَقَالَا : " إِنَّهُ بَدَأَ هَذَا الْأَمْرُ نُبُوَّةً وَرَحْمَةً ، ثُمَّ كَائِنٌ خِلَافَةً وَرَحْمَةً ، ثُمَّ كَائِنٌ مُلْكًا عَضُوضًا ، ثُمَّ كَائِنٌ عُتُوًّا وَجَبْرِيَّةً وَفَسَادًا فِي الْأُمَّةِ يَسْتَحِلُّونَ الْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ [ وَالْفُرُوجَ ] وَالْفَسَادَ [ فِي الْأُمَّةِ ] يُنْصَرُونَ عَلَى ذَلِكَ وَيُرْزَقُونَ أَبَدًا حَتَّى يَلْقَوُا اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ وَحْدَهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ أَوَّلَ دِينِكُمْ بَدَأَ نُبُوَّةً وَرَحْمَةً " فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ایک حدیث کے بارے میں سرگوشی میں بات کر رہے تھے میں نے ان دونوں سے کہا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کو یاد نہیں رکھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں صاحبان کو میرے بارے میں وصیت کی تھی ان دونوں نے کہا: ہم نے یہ ارادہ نہیں کیا کہ ہم آپ کو چھوڑ کر سرگوشی میں کوئی بات چیت کریں ہم ، تو ایک حدیث کا ذکر کر رہے تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ارشاد فرمائی تھی پھر ان دونوں نے حدیث کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات کہی ( کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ) ” اس معاملے ( یعنی حکومت ) کا آغاز نبوت اور رحمت سے ہو گا پھر خلافت اور رحمت ہو گی پھر مضبوطی والی بادشاہی ہو گی پھر سرکشی اور آمریت ہو گی اور اس امت میں فساد ہو گا کہ وہ لوگ ریشم اور شراب اور شرمگاہوں کو حلال قرار دیں گے اور اس امت میں فساد ہو گا کہ اس بارے میں ان کی مدد کی جائے گی اور انہیں ہمیشہ رزق دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیں گے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اسے صرف سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے دین کا آغاز نبوت اور رحمت کے ساتھ ہوا ہے اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔