حدیث نمبر: 8959
وَعَنْ نُفَيْرِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَذْهَبُ وَلَدُ الْعَبَّاسِ حَتَّى تَغَيَّظَ عَلَيْهِمْ أَحْيَاءُ الْعَرَبِ ، فَيَكُونُ أَشَدُّ مَا يَكُونُ لَيْسَ لَهُمْ فِي السَّمَاءِ نَاصِرٌ وَلَا فِي الْأَرْضِ عَاذِرٌ كَأَنِّي بِهِمْ عَلَى بَغْلَاتِهِمْ بَيْنَ ظَهْرَانِيِّ الْكُوفَةِ فَتَقُولُ الْعَاتِقُ فِي خِدْرِهَا : اقْتُلُوهُمْ قَتْلَهُمُ اللَّهُ لَا تَرْحَمُوهُمْ لَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ فَطَالَمَا لَمْ يَرْحَمُونَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي بَابِ أَئِمَّةِ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا نفیر بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک عرب کے قبیلے ان کے خلاف اٹھ کھڑے نہیں ہوں گے اور اس وقت کی صورت حال ان کے لئے سب سے زیادہ سخت ہو گی ، جب نہ تو آسمان میں ان کا کوئی مددگار ہو گا ، اور نہ زمین میں کوئی ان کا عذر پیش کرنے والا ہو گا میں گویا اس وقت بھی انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ کوفہ کے درمیان اپنے خچروں پر سوار ہوں گے اور اس وقت کوئی پردہ نشین عورت پردے میں یہ کہے گی : ان لوگوں کو قتل کر دو ! اللہ تعالیٰ انہیں قتل کرے تم ان پر رحم نہ کرنا اللہ تعالیٰ ان پر رحم نہ کرے ، انہوں نے ایک طویل عرصہ تک ہم پر رحم نہیں کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس نوعیت کی کچھ احادیث آگے چل کر ظلم و ستم کرنے والے حکمرانوں سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8959
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف