حدیث نمبر: 8958
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبَّاسِ : " لَنْ تَذْهَبَ الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلُكَ مِنْ وَلَدِكَ يَا عَمُّ فِي آخِرِ الزَّمَانِ عِنْدَ انْقِطَاعِ دَوْلَتِهِمْ وَهُوَ الثَّامِنُ عَشَرَ ، يَكُونُ مَعَهُ فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ يُقْتَلُ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ آلَافٍ تِسْعَةُ آلَافٍ وَتِسْعُمِائَةٍ ، لَا يَنْجُو مِنْهَا إِلَّا الْيَسِيرُ يَكُونُ قِتَالُهُمْ بِمَوْضِعٍ مِنَ الْعِرَاقِ " . قَالَ : فَبَكَى الْعَبَّاسُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يُبْكِيكَ ؟ إِنَّهُمْ شِرَارُ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، يَطْلُبُونَ الدُّنْيَا وَلَا يَهْتَمُّونَ لِلْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مِينَاءُ وَهُوَ كَذَّابٌ خَبِيثٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اے چچا ! دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک آپ کی اولاد میں سے آخری زمانے میں کچھ افراد حکمران نہیں بنیں گے اور پھر ان کی حکومت ختم ہو جائے گی اور وہ اٹھارواں فرد ہو گا جس کے ساتھ ایک ایسا فتنہ ہو گا ، جو گونگا ، اور بہرا کر دے گا ، اور اس کے دوران ہر دس ہزار افراد میں سے نو ہزار نو سو افراد قتل ہو جائیں گے صرف معمولی سے لوگ اس سے بچیں گے اور ان کی لڑائی عراق نامی جگہ پر ہو گی راوی کہتے ہیں : ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ رو پڑے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ یہ میری امت کے بدترین لوگ ہوں گے جو دین سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے یہ لوگ دنیا کے طلبگار ہوں گے اور انہیں آخرت کی کوئی فکر نہیں ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی میناء ہے ، اور وہ کذاب اور خبیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8958
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً