مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ إِمْرَةِ بَنِي الْعَبَّاسِ . باب: بنو عباس کی حکومت کا بیان
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَذَ بِيَدِ عَمِّهِ الْعَبَّاسِ ثُمَّ قَالَ : " يَا عَبَّاسُ إِنَّهُ لَا تَكُونُ نُبُوَّةٌ إِلَّا كَانَ بَعْدَهَا خِلَافَةٌ ، وَسَيَلِي مِنْ وَلَدِكَ آخِرَ الزَّمَانِ سَبْعَةَ عَشَرَ ، مِنْهُمُ السَّفَّاحُ ، وَمِنْهُمُ الْمَنْصُورُ ، وَمِنْهُمُ الْمَهْدِيُّ وَلَيْسَ بِمَهْدِيٍّ ، وَمِنْهُمُ الْجَمُوحُ ، وَمِنْهُمُ الْعَاقِبُ ، وَمِنْهُمُ الْوَاهِنُ مِنْ وَلَدِكَ ، وَوَيْلٌ لِأُمَّتِي مِنْهُ كَيْفَ يَعْقِرُهَا وَيُهْلِكُهَا وَيَذْهَبُ بِأَمْوَالِهَا هُوَ وَأَتْبَاعُهُ عَلَى غَيْرِ دِينِ الْإِسْلَامِ ، فَإِذَا بُويِعَ لِصُلْبِهِ فَعِنْدَ الثَّامِنِ عَشَرَ انْقِطَاعُ دَوْلَتِهِمْ وَخُرُوجُ أَهْلِ الْمَغْرِبِ مِنْ بُيُوتِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَوَّلِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُعَلِّمِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور پھر ارشاد فرمایا : اے سیدنا عباس ! جب بھی نبوت ہو تو اس کے بعد خلافت ہوتی ہے آخری زمانے میں آپ کی اولاد کے لوگ حکمران بنیں گے وہ سترہ افراد ہوں گے ان میں سے ایک سفاح ہو گا ان میں سے ایک منصور ہو گا ان میں سے ایک مہدی ہو گا ، جو مہدی نہیں ہو گا ان میں سے ایک جموح ہو گا ان میں سے ایک عاقب ہو گا ان میں سے ایک واہن ہو گا ، جو آپ کی اولاد میں سے ہو گا ، اور اس کے حوالے سے میری امت کے لئے بربادی ہے کہ وہ کیسے انہیں بانجھ کر دے گا انہیں ہلاکت کا شکار کر دے گا ان کے اموال ضائع کر دے گا وہ اور اس کے پیرو کار لوگ دین اسلام پر نہیں ہوں گے اور جب اس کے سگے بیٹے کی بیعت کی جائے گی ، تو اٹھارویں فرد کے وقت ان کی حکومت ختم ہو جائے گی اور اہل مغرب اپنے گھروں سے نکل آئیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاول بن عبداللہ معلم ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔