حدیث نمبر: 8956
وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ : مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ جَالِسٌ بِالْحِجْرِ فَقَالَ : " يَا أُمَّ الْفَضْلِ " قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " إِنَّكِ حَامِلٌ بِغُلَامٍ " قُلْتُ : وَكَيْفَ وَقَدْ تَحَالَفَتْ قُرَيْشٌ أَنْ لَا يَأْتُوا النِّسَاءَ ؟ قَالَ : " هُوَ مَا أَقُولُ فَإِذَا وَضَعْتِيهِ فَائْتِينِي بِهِ " قَالَتْ : فَلَمَّا وَضَعْتُهُ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذَّنَ فِي أُذُنِهِ الْيُمْنَى وَأَقَامَ فِي أُذُنِهِ الْيُسْرَى ، وَأَلْبَأَهُ مِنْ رِيقِهِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اذْهَبِي بِأَبِي الْخُلَفَاءِ " قَالَتْ : فَأَتَيْتُ الْعَبَّاسَ فَأَعْلَمْتُهُ ، وَكَانَ رَجُلًا لَبَّاسًا جَمِيلًا مَدِيدَ الْقَامَةِ فَتَلَبَّسَ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، قَامَ إِلَيْهِ فَقَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ ثُمَّ أَقْعَدَهُ عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ : " هَذَا عَمِّيَ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُبَاهِ بِعَمِّهِ " . فَقَالَ الْعَبَّاسُ : بَعْضُ الْقَوْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " وَلِمَ لَا أَقُولُ هَذَا يَا عَمُّ وَأَنْتَ عَمِّي وَبَقِيَّةُ آبَائِي وَوَارِثِي ، وَخَيْرُ مَنْ أَخْلُفُ مِنْ بَعْدِي مِنْ أَهْلِي ؟ ! " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ كَذَا وَكَذَا . قَالَ : " هِيَ يَا عَبَّاسُ بَعْدَ ثِنْتَيْنِ وَثَلَاثِينَ وَمِائَةٍ ، ثُمَّ مِنْكُمُ السَّفَّاحُ وَالْمَنْصُورُ وَالْمَهْدِيُّ ، وَهِيَ فِي أَوْلَادِهِمْ حَتَّى يَكُونَ آخِرُهُمِ الَّذِي يُصَلِّي بِالْمَسِيحِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ رَاشِدٍ الْهِلَالِيُّ وَقَدِ اتُّهِمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیده ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزری آپ اس وقت حطیم میں تشریف فرما تھے آپ نے ارشاد فرمایا : اے ام فضل ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں ایک لڑکے کا حمل ہے میں نے عرض کی : یہ کیسے ہو سکتا ہے ، جبکہ قریش نے یہ طے کر رکھا ہے کہ وہ خواتین کے پاس نہیں جائیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ویسا ہی ہو گا جیسے میں نے کہا: ہے ، جب تم اس بچے کو جنم دو تو اسے میرے پاس لے کے آنا سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب میں نے اس بچے کو جنم دیا تو میں اس کو لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دائیں کان میں اذان دی اور بائیں کان میں اقامت کہی اور آپ نے اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور اس کا نام عبداللہ رکھا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : خلفاء کے باپ کو لے جاؤ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور انہیں اس بارے میں بتایا وہ ایک خوش لباس ، وجیہ و شکیل ، لمبی قامت کے شخص تھے ، انہوں نے ( باہر جانے کا ) لباس پہنا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں ملاحظہ فرمایا : تو آپ اٹھ کر ان کی طرف بڑھے اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور پھر انہیں دائیں طرف بٹھا لیا پھر ارشاد فرمایا یہ میرے چچا ہیں جو شخص چاہے وہ اپنے چچا کے ساتھ مقابلہ کر لے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یا رسول اللہ ! ایک بات ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں یہ بات کیوں نہ کہوں کہ یہ چچا ہیں جبکہ آپ میرے چچا ہیں اور میرے آباء و اجداد کے باقی رہ جانے والے فرد ہیں اور میرے وارث ہیں اور ان سب میں بہتر ہوں گے جنہیں میں اپنے خاندان کے افراد میں سے پیچھے چھوڑ کے جاؤں گا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ام فضل نے یہ ، یہ بات کہی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسا ہی ہو گا اے سیدنا عباس ! یہ ایک سو بتیس کے بعد ہو گا پھر آپ لوگوں کی اولاد میں سفاح ہو گا منصور ہو گا مہدی ہو گا ، اور یہ حکومت ان کی اولاد میں باقی رہے گی یہاں تک کہ ان کا آخری فرد سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ نماز ادا کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن راشد ہلالی ہے اس حدیث کے حوالے سے اس پر تہمت عائد کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8956
درجۂ حدیث محدثین: موضوع