حدیث نمبر: 8944
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ لِلسِّتَّةِ الَّذِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ قَالَ : بَايِعُوا لِمَنْ بَايَعَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَإِنْ أَبَى فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ . . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . وَزَيْدٌ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ ، وَوَلَدُهُ عَبْدُ اللَّهِ وَثَّقَهُ مَعْنُ بْنُ عِيسَى وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین

زید بن اسلم بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان چھ افراد کے بارے میں یہ فرمایا : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تھے ، تو آپ ان سے راضی تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ جس کی بیعت کر لے تم اس کی بیعت کر لینا اگر کوئی انکار کرے ، تو اس کی گردن اڑا دینا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ زید نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس کے بیٹے عبداللہ کو معن بن عیسیٰ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8944
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع