حدیث نمبر: 8943
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا " . قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَبْعَثُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ؟ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ : " لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا " . قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَبْعَثُ إِلَى عُمَرَ ؟ فَسَكَتَ قَالَتْ : ثُمَّ دَعَا وَصِيفًا بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَارَّهُ فَذَهَبَ ، قَالَتْ : فَإِذَا عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ ، فَنَاجَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَوِيلًا ثُمَّ قَالَ " " يَا عُثْمَانُ إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا ، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ وَلَا كَرَامَةَ " يَقُولُهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھی آپ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! کاش ہمارے پاس کوئی ایسا فرد ہوتا جو ہمارے ساتھ بات چیت کرتا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجوا دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کاش ہمارے پاس کوئی فرد ہوتا جو ہمارے ساتھ بات چیت کرتا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام نہ بھیجوا دوں ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملازم کو بلوایا اور اس کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات چیت کی وہ چلا گیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیدی وہ اندر آ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاصی دیر تک پست آواز میں ان کے ساتھ بات چیت کی پھر آپ نے فرمایا : اے عثمان ! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا منافقین اسے اتروانے کا ارادہ کریں گے ، تو تم اسے نہ اتارنا اس میں کوئی کرامت نہیں ہے یہ بات آپ نے دو مرتبہ یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی
۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرج بن فضالہ ہے جس کی ، توثیق کی گئی ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8943
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (75/6)»