مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُلَفَاءِ الْأَرْبَعَةِ باب: چار خلفاء کا بیان
وَعَنْ عِيسَى بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ : قَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ الْغَدَ - حِينَ بُويِعَ - فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ أَقَلْتُكُمْ رَأْيَكُمْ ، إِنِّي لَسْتُ بِخَيْرِكُمْ فَبَايِعُوا خَيْرَكُمْ ، فَقَامُوا إِلَيْهِ فَقَالُوا : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْتَ وَاللَّهِ خَيْرُنَا . فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ دَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ طَوْعًا وَكَرْهًا ، فَهُمْ عُوَّادُ اللَّهِ وَجِيرَانُ اللَّهِ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنْ ذِمَّتِهِ فَافْعَلُوا ، إِنَّ لِي شَيْطَانًا يَحْضُرُنِي فَإِذَا رَأَيْتُمُونِي فَأَجِيبُونِي ، لَا أُمَثِّلُ بِأَشْعَارِكُمْ وَأَبْشَارِكُمْ ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ تَفَقَّدُوا ضَرَائِبَ عُلَمَائِكُمْ ، إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِلَحْمٍ نَبَتَ مَنْ سُحْتٍ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ ، أَلَا وَرَاعُونِي بِأَنْصَارِكُمْ ، فَإِنِ اسْتَقَمْتُ فَاتَّبِعُونِي وَإِنْ زُغْتُ فَقَوِّمُونِي ، وَإِنْ أَطَعْتُ اللَّهَ فَأَطِيعُونِي ، وَإِنْ عَصَيْتُ اللَّهَ فَاعْصُونِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَعِيسَى بْنُ عَطِيَّةَ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤عیسیٰ بن عطیہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی گئی ، تو اس کے اگلے دن وہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں تمہاری رائے تمہیں واپس کر دیتا ہوں میں تم میں سے سب سے بہتر نہیں ہوں تم اپنے میں سے سب سے بہتر شخص کی بیعت کر لو تو لوگ ان کے سامنے ہو گئے ، اور بولے : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! اللہ کی قسم ! آپ ہم میں سب سے بہتر ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! دوسرے لوگ اسلام میں رضامندی کے ساتھ یا زبردستی داخل ہو گئے ہیں ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے مہمان اور اس کے پڑوسی ہیں اگر تم سے ہو سکے ، تو تم اس چیز کا دھیان رکھنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ذمہ کے حوالے سے تم سے کوئی حساب نہ لے ، میرے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے جو میرے پاس آ جاتا ہے ، جب تم مجھے دیکھو تو مجھے جواب دو میں تمہارے ساتھ صرف باتیں نہیں بناؤں گا ، اے لوگو ! اپنے علماء ( یا شاید عمال ، یعنی ریاستی اہل کاروں ) کی کوتاہیوں کا خیال رکھو ، کیونکہ جس گوشت کی نشو و نما حرام پر ہوئی ہو ، اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جنت میں جائے ، خبردار ! تم اپنے مددگاروں کے ذریعے میری دیکھ بھال کرنا اگر میں ٹھیک رہوں ، تو تم میری پیروی کرنا اور اگر میں بھٹک جاؤں ، تو مجھے سیدھا کر دینا اگر میں اللہ کی اطاعت کروں ، تو تم میری اطاعت کرنا اور اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں ، تو تم میری نافرمانی کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سلیمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور ایک راوی عیسیٰ بن عطیہ ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔