مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُلَفَاءِ الْأَرْبَعَةِ باب: چار خلفاء کا بیان
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ خُطَبَاءُ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا : يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا بَعَثَ رَجُلًا مِنْكُمْ قَرَنَهُ بِرَجُلٍ مِنَّا ، فَنَحْنُ نَرَى أَنْ يَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ رَجُلَانِ رَجُلٌ مِنَّا وَرَجُلٌ مِنْكُمْ ، فَقَامَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَكُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَحْنُ أَنْصَارُ مَنْ يَقُومُ مَقَامَهُ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ حَيٍّ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ وَثَبَّتَ قَائِلَكُمْ ، وَاللَّهِ لَوْ قُلْتُمْ غَيْرَ ذَلِكَ مَا صَالَحْنَاكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو انصار کے خطیب کھڑے ہوئے اور بولے : اے مہاجرین کے گروہ ! اللہ کے رسول جب بھی تم میں سے کسی شخص کو کہیں بھیجتے تھے ، تو اس کے ساتھ ہم میں سے کسی شخص کو بھی بھیجتے تھے ، تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کے نگران دو آدمی بنیں گے ایک فرد ہم میں سے ہو گا ، اور ایک فرد تم میں سے ہو گا ، تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، اور بولے : بے شک اللہ کے رسول کا تعلق مہاجرین سے تھا ، اور ہم اللہ کے رسول کے مددگار ہیں ، تو جو شخص آپ کا قائم مقام ہو گا ، تو ہم اس کے بھی مددگار ہوں گے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے اور تمہارے کہنے والے کو ثابت قدم رکھے اللہ کی قسم ! اگر تم اس کے علاوہ کوئی اور بات کہتے تو ہم نے تمہارے ساتھ مصالحت نہیں کرنی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔