حدیث نمبر: 8940
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ وَفَاتِهِ بِشَهْرٍ - قَالَ : فَذَكَرَ قِصَّةً - فَنُودِيَ فِي النَّاسِ : إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ وَهِيَ أَوَّلُ صَلَاةٍ فِي الْمُسْلِمِينَ نُودِيَ فِي النَّاسِ أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ - شَيْئًا صُنِعَ لَهُ كَانَ يَخْطُبُ عَلَيْهِ ، وَهِيَ أَوَّلُ خُطْبَةٍ فِي الْإِسْلَامِ - قَالَ : فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ وَلَوَدِدْتُ أَنَّ هَذَا كَفَانِيهِ غَيْرِي ، وَلَئِنْ أَخَذْتُمُونِي بِسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ مَا أُطِيقُهَا إِنْ كَانَ لَمَعْصُومًا مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَإِنْ كَانَ لَيَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ مِنَ السَّمَاءِ . . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ الْبَجَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا جو اللہ کے رسول کے خلیفہ تھے ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے ایک ماہ بعد کی بات ہے اس کے بعد راوی نے پورا واقعہ ذکر کیا ہے جس میں یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان اعلان کیا گیا نماز اکٹھا کرنے والی ہے یہ مسلمانوں میں پہلی نماز تھی جس کے لئے لوگوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ نماز اکٹھا کرنے والی ہے لوگ اکٹھے ہو گئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے وہ ایک ایسی چیز تھی ، جو ان کے لئے تیار کی گئی تھی جس پر وہ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے یہ اسلام میں پہلا خطبہ تھا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میری یہ خواہش ہے کہ یہ کام میری بجائے کوئی اور کر لے اگر تم اپنے نبی کی سنت کے حوالے سے میری گرفت کرتے ہو تو میں اس کی طاقت نہیں رکھتا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شیطان سے محفوظ تھے پھر یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آسمان سے وحی بھی نازل ہوتی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب بجلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8940
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (80)»