حدیث نمبر: 8926
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ زَيْدُ بْنُ خَارِجَةَ انْتَظَرْتُ خُرُوجَ عُثْمَانَ فَقُلْتُ : يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، فَكُشِفَ الثَّوْبُ عَنْ وَجْهِهِ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، وَأَهْلُ الْبَيْتِ يَتَكَلَّمُونَ ، قَالَ : فَقُلْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ : سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ . فَقَالَ : انْصِتُوا انْصِتُوا . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا فِي الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے نکلنے کا انتظار کرتا رہا میں نے سوچا وہ دو رکعت ادا کر رہے ہوں گے زید بن خارجہ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا گیا تو انہوں نے کہا: السلام علیکم السلام علیکم گھر والے لوگ بات چیت کر رہے تھے راوی کہتے ہیں : میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا میں نے کہا: سبحان اللہ سبحان اللہ ، تو انہوں نے کہا: تم خاموش رہو تم خاموش رہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اور معجم اوسط میں زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہیں جو دو اسناد کے ساتھ منقول ہیں ۔ معجم کبیر میں ان دو میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8926
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (5145)»