مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُلَفَاءِ الْأَرْبَعَةِ باب: چار خلفاء کا بیان
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : بَيْنَمَا زِيدُ بْنُ خَارِجَةَ يَمْشِي فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ إِذْ خَرَّ مَيِّتًا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَنُقِلَ إِلَى أَهْلِهِ وَسُجِّيَ بَيْنَ ثَوْبَيْنِ وَكِسَاءٍ ، فَلَمَّا كَانَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ اجْتَمَعْنَ نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَصَرَخُوا حَوْلَهُ ، إِذْ سَمِعُوا صَوْتًا مِنْ تَحْتِ الْكِسَاءِ يَقُولُ : أَنْصِتُوا أَيُّهَا النَّاسُ مَرَّتَيْنِ ، فَحُسِرَ عَنْ وَجْهِهِ وَصَدْرِهِ ، فَقَالَ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ ، ثُمَّ قِيلَ عَلَى لِسَانِهِ صَدَقَ صَدَقَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ خَلِيفَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَوِيُّ الْأَمِينُ كَانَ ضَعِيفًا فِي بَدَنِهِ قَوِيًّا فِي أَمْرِ اللَّهِ ، كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ قِيلَ عَلَى لِسَانِهِ : صَدَقَ صَدَقَ ثَلَاثًا . ¤ وَالْأَوْسَطُ : عَبْدُ اللَّهِ [ عُمَرُ ] أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - الَّذِي كَانَ لَا يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ، وَكَانَ يَمْنَعُ النَّاسَ أَنْ يَأْكُلَ قَوِيُّهُمْ ضَعِيفَهُمْ ، كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ قِيلَ عَلَى لِسَانِهِ : صَدَقَ صَدَقَ . ¤ ثُمَّ قَالَ : عُثْمَانُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ رَحِيمٌ بِالْمُؤْمِنِينَ ، خَلَتِ اثْنَتَانِ وَبَقِيَ أَرْبَعُ ، وَاخْتَلَفَ النَّاسُ وَلَا نِظَامَ لَهُمْ ، وَانْتُحِبَتِ الْأَحْمَاءُ - يَعْنِي تُنْتَهَكُ الْمَحَارِمُ - وَدَنَتِ السَّاعَةُ وَأَكَلَ النَّاسُ بَعْضَهُمْ بَعْضًا . ¤سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ زید بن خارجہ مدینہ کے کسی راستے سے چلتے ہوئے جا رہے تھے کہ ظہری اور عصر کے درمیان وہ گر کر مر گئے ان کی میت ان کے گھر منتقل کی گئی انہیں دو کپڑوں اور ایک چادر میں ڈھانپ دیا گیا جب مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت ہوا اور انصار کی خواتین اکٹھے ہو کر ان کے اردگرد رونے لگیں ، تو لوگوں نے چادر کے نیچے سے ایک آواز سنی کوئی شخص یہ کہہ رہا تھا اے لوگو تم خاموش ہو جاؤ یہ بات دو مرتبہ کہی گئی ان کے چہرے اور سینے سے چادر ہٹا دی گئی ، تو انہوں نے کہا: سیدنا محمد اللہ کے رسول ہیں جو امی نبی ہیں اور انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں اور یہ بات کتاب میں موجود ہے پھر ان کی زبانی یہ بات کہی گئی کہ انہوں نے سچ کہا: ابوبکر صدیق اللہ کے رسول کے خلیفہ ہیں جو قوی اور امین ہیں جسمانی طور پر کمزور ہیں اور اللہ کے معاملے میں قوی ہیں اور یہ بات پہلے کی کتاب ( یا تحریر ) میں موجود ہے پھر ان کی زبانی یہ بات کہی گئی انہوں نے سچ کہا: یہ بات تین مرتبہ کہی گئی درمیان والے عبداللہ ( یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ) امیر المؤمنین ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہیں ہوں گے اور وہ لوگوں کو اس بات سے روکیں گے کہ ان کا طاقتور شخص ان کے کمزور شخص کا حق ( کھائے ) یہ بات پہلی کتاب میں مذکور ہے پھر ان کی زبانی یہ بات کہی گئی انہوں نے سچ کہا: ہے ۔ انہوں نے سچ کہا: ہے پھر انہوں نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین ہیں جو اہل ایمان کے لئے رحم والے ہیں دو گزر چکے ہیں اور چار باقی رہ گئے ہیں لوگوں نے اختلاف شروع کیا اور ان کا کوئی نظام نہیں ہے ، اور حرمتیں پامال کی جانے لگی ہیں قیامت قریب آ گئی ہے ، اور لوگوں نے ایک دوسرے ( کے حقوق ) کو کھانا شروع کر دیا ہے ۔