حدیث نمبر: 8927
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ ، كَأَنِّي أَنْزِعُ أَرْضًا وَرَدَتْ عَلَيَّ غَنَمٌ سُودٌ وَغَنَمٌ عُفْرٌ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ ، وَفِيهِمَا ضَعْفٌ ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ . ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَنَزَعَ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا ، فَمَلَأَ الْحَوْضَ وَأَرْوَى الْوَارِدَةَ ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا أَحْسَنَ نَزْعًا مِنْ عُمَرَ ، فَأَوَّلَتُ [ أَنَّ ] السُّودَ الْعَرَبَ وَأَنَّ الْعُفْرَ الْعَجَمُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میں زمین سے پانی نکال رہا ہوں ، میرے پاس سیاہ رنگ کی بکریاں آئی ہیں اور خاکستری رنگ کی بکریاں آئی ہیں پھر ابوبکر آیا اس نے ایک یا دو ڈول نکالے اس کے نکالنے میں کمزوری تھی اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے پھر عمر آیا اس نے پانی نکالنا شروع کیا ، تو وہ ڈول بڑا ڈول بن گیا اس نے حوض کو بھر دیا اور آنے والوں کو سیراب کر دیا میں نے اس جیسا طاقتور شخص نہیں دیکھا جس نے عمر سے زیادہ اچھے طریقے سے پانی نکالا ہو تو میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ سیاہ بکریوں سے مراد عرب ہیں اور خاکستری بکریوں سے مراد عجمی ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے جس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8927
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف