حدیث نمبر: 8909
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ نُؤَمِّرُ بَعْدَكَ ؟ قَالَ : " إِنْ تُؤَمِّرُوا أَبَا بَكْرٍ تَجِدُوهُ أَمِينًا زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا رَاغِبًا فِي الْآخِرَةِ ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عُمَرَ تَجِدُوهُ قَوِيًّا أَمِينًا لَا تَأْخُذُهُ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عَلِيًّا وَلَا أَرَاكُمْ فَاعِلِينَ تَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا يَأْخُذُ بِكُمُ الطَّرِيقَ الْمُسْتَقِيمَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی ہے : یا رسول اللہ ! آپ کے بعد ہم کسے امیر بنائیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم ابوبکر کو امیر بناتے ہو تو تم اسے امین پاؤ گے ، جو دنیا سے بے رغبت ہو گا ، اور آخرت میں رغبت رکھنے والا ہو گا ، اور اگر تم عمر کو امیر بناتے ہو تو تم اسے قوی اور امین پاؤ گے اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اس کو اپنی گرفت میں نہیں لے گی اور اگر تم علی کو امیر بناؤ گے اور میرا نہیں خیال کہ تم ایسا کرو گے ، تو تم اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت کا مرکز پاؤ گے وہ تمہیں سیدھے راستے پر لے کے چلے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8909
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1571) أخرجه احمد فى المسند (859)»