حدیث نمبر: 8839
وَعَنِ ابْنَيْ بِشْرٍ قَالَا : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْنَا لَهُ قَطِيفَةً لَنَا فَثَنَيْنَاهَا ، فَجَلَسَ وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي بَيْتِنَا ، وَقَدَّمْنَا إِلَيْهِ زُبْدًا وَتَمْرًا وَكَانَ يُحِبُّ الزُّبْدَ ، وَكَانَ فِي رَأْسِ أَحَدِهِمْ قَرْنُ شَعْرٍ مُجْتَمِعٌ ، كَأَنَّهُ قَرَنٌ فَقَالَ : " أَلَا أَرَى فِي أُمَّتِي قَرْنًا ؟ " . فَذَكْرَ الْحَدِيثِ . ¤ وَنَصُّهُ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بشر رضی اللہ عنہ کے دونوں صاحبزادے بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے آپ کے لئے چٹائی بچھائی ہم نے اسے پھیلا دیا آپ تشریف فرما ہوئے آپ پر ہمارے گھر میں وحی بھی نازل ہوئی ہم نے آپ کے سامنے پنیر اور کھجوریں پیش کیں آپ پنیر کو پسند کرتے تھے ، ان لوگوں میں سے ایک شخص کے سر میں کچھ بالوں کی چوٹی تھے ، وہ اکٹھے تھے ، یوں جیسے سینگ ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں اپنی امت میں سینگ نہیں دیکھ رہا ہوں ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، اور
یہ روایت امام ابوداؤد نے بھی نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8839
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح