مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّعْرِ وَاللِّحْيَةِ . باب: بالوں اور داڑھی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ زِيَادَةَ الْبَكْرِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى ابْنَيْ بِشْرٍ الْمَازِنِيَّيْنِ فَقُلْتُ : هَلْ رَأَيْتُمَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَا : نَعَمْ زَارَنَا فِي رِحَالِنَا فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا فَأَكَلَ مِنْ طَعَامِنَا وَرَأَى فِي قَرْنِ أَحَدِنَا شَعَرَاتٍ مُلْتَفَّةً فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ طَالِبِ بْنِ قُرَّةَ الْأَذَنِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤عبید بن زیادہ بکری بیان کرتے ہیں : میں سیدنا بشر مازنی رضی اللہ عنہ کے دو صاحبزادوں کے پاس گیا میں نے دریافت کیا : کیا آپ دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری رہائشی جگہ پر ہمارے پاس تشریف لائے تھے ہم نے کھانا آپ کی خدمت میں پیش کیا تھا تو آپ نے ہمارے کھانے میں سے کچھ کھایا تھا آپ نے ہم میں سے ایک کی پیشانی پر کچھ بال لپٹے ہوئے دیکھے ، تو اپنا دست مبارک اس پر رکھ دیا اور فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لئے مخصوص ہے جس نے میری امت میں اس کی مانند بنائے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد طالب بن قرہ اذنی سے نقل کی ہے ۔ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔