مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّيْبِ وَالْخِضَابِ . باب: سفید بالوں اور خضاب لگانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، وَقَدْ سَوَّدَ شَيْبَهُ فَهُوَ مِثْلُ جَنَاحِ الْغُرَابِ فَقَالَ : مَا هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُحِبُّ أَنْ يُرَى فِيَّ بَقِيَّةٌ ، فَلَمْ يَنْهَهُ عَنْ ذَلِكَ ، وَلَمْ يَعِبْهُ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ : حَدَّثَنِي مَنْ أَثِقُ بِهِ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے سفید بالوں کو سیاہ خضاب لگایا ہوا تھا جو کوے کے پروں کی طرح تھا آپ نے فرمایا : اے ابوعبداللہ ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اے امیرالمؤمنین میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ مجھ میں بقیہ ( شاید مراد ، گزری جوانی ہے ) نظر آئے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس سے منع نہیں کیا اور اس حوالے سے ان پر اعتراض نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے سعد بن ابومریم بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے حدیث بیان کی ہے ، جسے میں قابل اعتماد سمجھتا ہوں اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔