حدیث نمبر: 88
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي الشَّيْءَ لَأَنْ أَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ ، فَقَالَ : " ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ مُنْتَصِرٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : مجھے بعض اوقات ایسا خیال آتا ہے کہ میں کوئلہ بن جاؤں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا ، کہ میں اس خیال کے حوالے سے کلام کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”یہ صریح ایمان ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مختصر کا معاملہ مختلف ہے ، جو امام طبرانی کے استاد ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 88
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 115/2»