مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْوَسْوَسَةِ . باب: وسوسہ کا بیان
حدیث نمبر: 89
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - : أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي بِالشَّيْءِ لَوْ تَكَلَّمْتُ بِهِ لَأَحْبَطْتُ آخِرَتِي ، فَقَالَ : " لَا يَلْقَى ذَلِكَ الْكَلَامَ إِلَّا مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ سَيْفُ بْنُ عُمَيْرَةَ ، قَالَ الْأَزْدِيُّ : يَتَكَلَّمُونَ فِيهِ . ¤محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا : ایک شخص نے آپ سے سوال کرتے ہوئے یہ کہا: میرے ذہن میں ایسا خیال آ جاتا ہے ، کہ اگر میں اس کے بارے میں کلام کروں ، تو میں اپنی آخرت کو برباد کر دوں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس طرح کی بات ( یعنی وسوسہ ) کا سامنا ، صرف مؤمن کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سیف بن عمیرہ ہے ، ازدی کہتے ہیں : علماء نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ۔