حدیث نمبر: 87
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ : مَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ ؟ فَيَقُولُ : اللَّهُ ، فَيَقُولُ : مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ ؟ فَيَقُولُ : اللَّهُ ، فَيَقُولُ : مَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ : آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانَ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” شیطان تم میں سے کسی ایک کے پاس آتا ہے ، اور کہتا ہے : آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ بندہ کہتا ہے : اللہ تعالٰی نے وہ پوچھتا ہے : زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ بندہ کہتا ہے : اللہ تعالیٰ نے ، وہ پوچھتا ہے : اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) جب کوئی شخص یہ صورتحال پائے ، تو اُسے یہ کہنا چاہیے : میں اللہ تعالٰی اور اُس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف أحمد بن محمد بن نافع طحان کا معاملہ مختلف ہے ، جو امام طبرانی کے استاد ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 87
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 1896»