حدیث نمبر: 80
عَنْ عُثْمَانَ - يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَاذَا يُنْجِينَا مِمَّا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِي أَنْفُسِنَا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " يُنْجِيكُمْ مِنْ ذَلِكَ أَنْ تَقُولُوا مَا أَمَرْتُ بِهِ عَمِّي أَنْ يَقُولَهُ فَلَمْ يَقُلْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو الْحُوَيْرِثِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری یہ خواہش تھی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا ہوتا ، کہ شیطان ہمارے من میں جو چیز ڈال دیتا ہے ، اُس سے نجات کا طریقہ کیا ہے ؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اس سے تمہیں یہ چیز نجات دلائے گی کہ تم وہ کلمہ پڑھ لو ، جو میں نے اپنے چچا کو ، ان کے انتقال کے وقت پڑھنے کا کہا: تھا ، اور انہوں نے ایسا نہیں کیا تھا ۔“
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحویرث عبدالرحمن بن معاویہ ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ ”کتاب الثقات “میں کیا ہے ، تاہم زیادہ تر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 80
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 8/1 اورده المؤلف فى زوائد المسند 72»
حدیث نمبر: 81
وَعَنْ خُزَيْمَةَ - يَعْنِي : ابْنَ ثَابِتٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَأْتِي الشَّيْطَانُ الْإِنْسَانَ فَيَقُولُ : مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ ؟ فَيَقُولُ : اللَّهُ ، فَيَقُولُ : مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ ؟ فَيَقُولُ : اللَّهُ ، حَتَّى يَقُولَ : مَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ : آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادٍ فِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شیطان انسان کے پاس آتا ہے ، اور کہتا ہے : آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ آدمی کہتا ہے : اللہ تعالی نے ، شیطان کہتا ہے : زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ آدمی کہتا ہے : اللہ تعالیٰ نے ، یہاں تک کہ شیطان کہتا ہے : اللہ تعالی کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ جب کوئی شخص اس طرح کی صورتحال پائے ، تو اُسے یہ کہنا چاہیے : میں اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسونوں پر ایمان رکھتا ہوں “ ۔

یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، ایسی سند کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 81
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 214/5 أورده المؤلف فى زوائد المسند 71»
حدیث نمبر: 82
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ يَأْتِيهِ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ : مَنْ خَلَقَكَ ؟ فَيَقُولُ : اللَّهُ ، فَيَقُولُ : مَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ : آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُذْهِبُ عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم میں سے کسی ایک کے پاس شیطان آتا ہے اور یہ کہتا ہے : تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ آدمی کہتا ہے : اللہ تعالٰی نے شیطان کہتا ہے : اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) جب کوئی شخص ایسی صورتحال پائے ، تو اسے یہ کہنا چاہیے : میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں ، تو یہ چیز ( یعنی وسوسہ ) اُس سے دور ہو جائے گا “ ۔
یه روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 82
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 257/6 اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 4685، اورده المؤلف فى زوائد المسند 70 أورده المؤلف فى كشف الاستار 50 أورده المؤلف فى المقصد العلى 25»
حدیث نمبر: 83
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ : شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا يَجِدُونَ مِنَ الْوَسْوَسَةِ ، وَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَجِدُ شَيْئًا لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّ لَفْظَ أَبِي يَعْلَى : أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَائِشَةَ : إِنَّ أَحَدَنَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ لَوْ تَكَلَّمَ بِهِ ذَهَبَتْ آخِرَتُهُ ، وَلَوْ ظَهَرَ [ عَلَيْهِ ] لَقُتِلَ ، [ قَالَ ] فَكَبَّرَتْ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَتْ : سُئِلَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَبَّرَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّمَا يُخْتَبَرُ بِهَذَا الْمُؤْمِنُ " . وَفِي إِسْنَادِهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں : کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وسوسے آنے کے حوالے سے شکایت کی انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ایسا خیال بھی پاتے ہیں کہ اگر ہم میں سے کوئی ایک آسمان سے گر جائے ، تو یہ اُس کے نزدیک اس خیال کے بارے میں بات کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” یہ محض ایمان ہے“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے ، اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم امام ابویعلیٰ کے الفاظ یہ ہیں : ” ایک شخص نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہم میں سے کسی ایک شخص کو بعض اوقات ایسا خیال آتا ہے کہ اگر آدمی اُس کے بارے میں بات کر لے ، تو اس کی آخرت تباہ ہو جائے اور اگر وہ اُس خیال کو ظاہر کرئے تو اسے قتل کر دیا جائے راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تین مرتبہ تکبیر کہی ، پھر انہوں نے فرمایا : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس بارے میں دریافت کیا گیا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ تکبیر کہی تھی اور پھر یہ ارشاد فرمایا تھا : اس کے ذریعے مؤمن کا امتحان لیا جاتا ہے “ ۔
اس روایت کی سند میں ، ایک راوی شہر بن حوشب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 83
درجۂ حدیث محدثین: وهلذا إسناد منقطع ، ولكن الحديث صحيح بشواهده
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده /2/ 106 اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 4114 اورده المؤلف فى زوائد المسند 96 أورده المؤلف فى المقصد العلى 27»
حدیث نمبر: 84
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ عُمَرَ مَرَّ عَلَى عُثْمَانَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ ، فَدَخَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَاشْتَكَى ذَلِكَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : مَرَرْتُ عَلَى عُثْمَانَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، فَقَالَ : أَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ : هُوَ فِي الْمَسْجِدِ قَاعِدٌ ، فَانْطَلَقَا إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرُدَّ عَلَى أَخِيكَ حِينَ سَلَّمَ عَلَيْكَ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ أَنَّهُ مَرَّ بِي ، وَأَنَا أُحَدِّثُ نَفْسِي فَلَمْ أَشْعُرْ أَنَّهُ سَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَمَاذَا تُحَدِّثُ نَفْسَكَ ؟ قَالَ : خَلَا بِي الشَّيْطَانُ فَجَعَلَ يُلْقِي فِي نَفْسِي أَشْيَاءَ مَا أُحِبُّ أَنِّي تَكَلَّمْتُ بِهَا وَإِنَّ لِي مَا عَلَى الْأَرْضِ ، قُلْتُ فِي نَفْسِي حِينَ أَلْقَى الشَّيْطَانُ ذَلِكَ فِي نَفْسِي : يَا لَيْتَنِي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَا الَّذِي يُنْجِينَا مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ الَّذِي يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِي أَنْفُسِنَا ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَإِنِّي وَاللَّهِ لَقَدِ اشْتَكَيْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَأَلْتُهُ : مَا الَّذِي يُنْجِينَا مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ الَّذِي يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِي أَنْفُسِنَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُنْجِيكُمْ مِنْ ذَلِكَ أَنْ تَقُولُوا مِثْلَ الَّذِي أَمَرْتُ بِهِ عَمِّي عِنْدَ الْمَوْتِ فَلَمْ يَفْعَلْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَعِنْدَ أَحْمَدَ طَرَفٌ مِنْهُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو الْحُوَيْرِثِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن جبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا گزر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، جو مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں سلام کیا ، لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان کے سامنے شکایت کی ، اور یہ بتایا کہ میں عثمان کے پاس سے گزرا تھا ، میں نے اُسے سلام کیا تھا ، لیکن اس نے مجھے جواب نہیں دیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کہاں ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا : وہ مسجد میں بیٹھا ہوا ہے ، یہ دونوں حضرات ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اُن سے دریافت کیا : آپ کے بھائی نے جب آپ کو سلام کیا تھا ، تو آپ نے اسے جواب کیوں نہیں دیا ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا کہ یہ میرے پاس سے گزرے ہیں ، میں اپنے خیالوں میں گم تھا ، اس لیے مجھے پتہ نہیں چل سکا ، کہ انہوں نے سلام کیا ہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ کن خیالوں میں گم تھے ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا : جب میں اکیلا ہوتا ہوں ، تو شیطان میرے ذہن میں ایسے خیالات ڈالتا ہے کہ مجھے یہ پسند نہیں ہے ، کہ میں اُن کے بارے میں بات چیت کروں ، اگرچہ اس کے بدلے میں مجھے روئے زمین پر موجود ہر چیز مل رہی ہو ، جب شیطان میرے ذہن میں اس طرح کے خیال ڈالتا ہے ، تو میں دل میں سوچتا ہوں ، کاش میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا ہوتا ، کہ شیطان ہمارے ذہنوں میں اس طرح کے خیال پیدا کرتا ہے تو اس سے کیا چیز ہمیں نجات دے سکتی ہے ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے : اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسی چیز کی شکایت کی تھی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا ، شیطان ہمارے ذہنوں میں جو خیال ڈالتا ہے ، کیا چیز اُس سے ہمیں نجات دے سکتی ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : اس سے تمہیں وہ چیز نجات دے سکتی ہے ، کہ تم وہ ( کلمہ ) پڑھو ، جو میں نے اپنے چچا کو پڑھنے کے لیے کہا تھا ، جب اُن کا انتقال ہونے لگا تھا ، تو انہوں نے ایسا نہیں کیا تھا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحویرث عبدالرحمن بن معاویہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، تاہم اکثر اہل علم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 84
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 128 اورده المؤلف فى المقصد العلى 29»
حدیث نمبر: 85
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ أَحَدَنَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِالشَّيْءِ الَّذِي لَأَنْ يَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَيَتَقَطَّعَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا يَزِيدَ بْنَ أَبَانٍ الرَّقَاشِيَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ بعض اوقات ہم میں سے کسی ایک کو ایسا خیال آتا ہے کہ اگر وہ آسمان سے گرے اور اس کے ٹکڑے ہو جائیں ، تو یہ چیز اُس شخص کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گی کہ وہ اس خیال کے بارے میں کلام کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” یہ محض ایمان ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کے راوی صحیح کے رجال ہیں ، صرف یزید بن ابان رقاشی کا معاملہ مختلف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 85
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 4114»
حدیث نمبر: 86
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَكُونُ عِنْدَكَ عَلَى حَالٍ حَتَّى إِذَا فَارَقْنَاكَ نَكُونُ عَلَى غَيْرِهِ . قَالَ : " كَيْفَ أَنْتُمْ وَنَبِيُّكُمْ ؟ " قَالُوا : أَنْتَ نَبِيُّنَا فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ . قَالَ : " لَيْسَ ذَاكَ النِّفَاقَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّ الْبَزَّارَ قَالَ : " كَيْفَ أَنْتُمْ وَرَبُّكُمْ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ رَبُّنَا فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ . وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں ، تو ہماری مخصوص کیفیت ہوتی ہے ، اور جب ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں ، تو وہ کیفیت تبدیل ہو جاتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارا ، اپنے نبی کے ساتھ تعلق کیسا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کی : پوشیدہ اور علانیہ ( ہر حال میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نبی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ چیز ( یعنی کیفیات کا تبدیل ہونا ) منافقت نہیں ہے “ ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم امام بزار کے الفاظ یہ ہیں : ” تمہارا اور تمہارے پروردگار کا تعلق کیسا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : پوشیدہ اور علانیہ ( ہر حال میں ) اللہ تعالی ہمارا پروردگار ہے “ ۔
امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 86
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام أبو يعلى فى مسنده 3356 أورده المؤلف فى كشف الأستار 52»
حدیث نمبر: 87
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ : مَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ ؟ فَيَقُولُ : اللَّهُ ، فَيَقُولُ : مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ ؟ فَيَقُولُ : اللَّهُ ، فَيَقُولُ : مَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ : آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانَ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” شیطان تم میں سے کسی ایک کے پاس آتا ہے ، اور کہتا ہے : آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ بندہ کہتا ہے : اللہ تعالٰی نے وہ پوچھتا ہے : زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ بندہ کہتا ہے : اللہ تعالیٰ نے ، وہ پوچھتا ہے : اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) جب کوئی شخص یہ صورتحال پائے ، تو اُسے یہ کہنا چاہیے : میں اللہ تعالٰی اور اُس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف أحمد بن محمد بن نافع طحان کا معاملہ مختلف ہے ، جو امام طبرانی کے استاد ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 87
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 1896»
حدیث نمبر: 88
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي الشَّيْءَ لَأَنْ أَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ ، فَقَالَ : " ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ مُنْتَصِرٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : مجھے بعض اوقات ایسا خیال آتا ہے کہ میں کوئلہ بن جاؤں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا ، کہ میں اس خیال کے حوالے سے کلام کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”یہ صریح ایمان ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مختصر کا معاملہ مختلف ہے ، جو امام طبرانی کے استاد ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 88
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 115/2»
حدیث نمبر: 89
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - : أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي بِالشَّيْءِ لَوْ تَكَلَّمْتُ بِهِ لَأَحْبَطْتُ آخِرَتِي ، فَقَالَ : " لَا يَلْقَى ذَلِكَ الْكَلَامَ إِلَّا مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ سَيْفُ بْنُ عُمَيْرَةَ ، قَالَ الْأَزْدِيُّ : يَتَكَلَّمُونَ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا : ایک شخص نے آپ سے سوال کرتے ہوئے یہ کہا: میرے ذہن میں ایسا خیال آ جاتا ہے ، کہ اگر میں اس کے بارے میں کلام کروں ، تو میں اپنی آخرت کو برباد کر دوں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس طرح کی بات ( یعنی وسوسہ ) کا سامنا ، صرف مؤمن کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سیف بن عمیرہ ہے ، ازدی کہتے ہیں : علماء نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 89
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 3430، اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 129/1»
حدیث نمبر: 90
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي : ابْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْوَسْوَسَةِ . فَقَالَ : " ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَةٌ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وسوسہ کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”یہ محض ایمان ہے “۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام طبرانی کے استاد بھی ثقہ ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 90
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 91
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَيَعْرِضُ فِي نَفْسِيَ الشَّيْءُ ، لَأَنْ أَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَمْدُ لِلَّهِ أَنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِي هَذِهِ ، وَلَكِنَّهُ رَضِيَ بِالْمُحَقَّرَاتِ مِنْ أَعْمَالِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُعَاذٍ ، وَلَمْ يُدْرِكْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اُس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، بعض اوقات میرے ذہن میں ایسا خیال پیدا ہوتا ہے ، کہ میں جل کر کوئلہ بن جاؤں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں اُس خیال کے بارے میں کلام کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” اس بات پر ، ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، کہ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے ، کہ اب میری اس سرزمین پر اُس کی عبادت کی جائے ، البتہ اب وہ تمہارے اعمال میں سے ، معمولی سی چیزوں ( یعنی گناہوں اور کوتاہیوں ) سے بھی راضی ہو جائے گا “۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، یہ روایت ذر بن عبداللہ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، حالانکہ انہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 91
درجۂ حدیث محدثین: منقطع
حدیث نمبر: 92
وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ - أَوِ ابْنِ الْحَسَنِ - عَنْ عَمِّهِ : أَنَّ النَّاسَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْوَسْوَسَةِ الَّتِي يَجِدُهَا أَحَدُهُمْ ، لَأَنْ يَسْقُطَ مِنْ عِنْدِ الثُّرَيَّا أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي الْعَبْدَ فِيمَا دُونَ ذَلِكَ ، فَإِذَا عُصِمَ مِنْهُ وَقَعَ فِيمَا هُنَالِكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ أَئِمَّةٌ . ¤
محمد محی الدین
عمارہ بن ابوالحسن ، یا شاید عمارہ بن حسن ، اپنے چچا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وسوسہ کے بارے میں دریافت کیا ، جس کا سامنا اُن میں سے کوئی ایک کرتا ہے ، کہ اس کا ثریا ستارے سے گر جانا ، اُس شخص کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ وہ شخص اُس وسوسے کے حوالے سے کلام کرے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ صریح ایمان ہے ، بیشک شیطان ، بندے کے پاس ، اس سے کم معاملے کے بارے میں آتا ہے ، تو جب وہ اس سے محفوظ ہو جاتا ہے تو پھر کسی دوسرے میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے روایت کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ائمہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 92
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 49»
حدیث نمبر: 93
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَقُولُونَ : كَانَ اللَّهُ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ ، فَمَا كَانَ قَبْلَهُ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ - وَلَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا - وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”لوگ مسلسل یہ کہتے رہیں گے اللہ تعالیٰ ہر چیز سے پہلے تھا ، اس سے پہلے کیا تھا ؟“
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ” صحیح “ میں اس راوی کے حوالے سے اس کے علاوہ ایک اور روایت منقول ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 93
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 51»