مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ لَمْ يَنْتَفِعْ بِعِلْمِهِ . باب: ایسے شخص کا بیان جو اپنے علم کے ذریعے نفع حاصل نہ کرے
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : تَعَرَّضْتُ - أَوْ قَالَ : تَصَدَّيْتُ - لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ شَرٌّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ غَفْرَةً ، اسْأَلْ عَنِ الْخَيْرِ وَلَا تَسْأَلْ عَنِ الشَّرِّ ، شِرَارُ النَّاسِ شِرَارُ الْعُلَمَاءِ فِي النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَرَدَّ ابْنُ عَدِيٍّ قَوْلَ الْبُخَارِيِّ ، وَقَالَ أَبُو زُرْعَةَ : شَيْخٌ صَالِحٌ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! سب سے زیادہ برا شخص کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تجھ سے مغفرت کا سوال ہے ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا : ) تم بھلائی کے بارے میں سوال کرو ، شر کے بارے میں سوال نہ کرو ! لوگوں میں برے لوگ وہ ہیں ، جو لوگوں کے درمیان برے علماء ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلیل بن مرہ ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ، ابن عدی نے امام بخاری رحمہ اللہ کا قول مسترد کیا ہے ، ابوزرعہ کہتے ہیں یہ ایک نیک بزرگ ہے ۔